انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 151

انوار العلوم جلد !! ۱۵۱ فضائل القرآن (۲) ہوں۔ میں نے کہا بہت اچھا۔ میں نے ساتھیوں کو بھیج دیا ۔ جب وہ چلے گئے تو کہنے لگا۔ آپ کے پاس مختلف ممالک کے خطوط آتے ہونگے۔ اگر آپ مجھے ان خطوط کے ٹکٹ بھیجوا دیا کریں تو میں بہت ممنون ہونگا۔ میں نے کہا اچھا اگر کوئی غیر معمولی ٹکٹ ملا تو بھیج دیا کروں گا۔ کہنے لگا میں بھی آپ کی خدمت کروں گا۔ آپ مجھ پر اعتبار کریں اور مجھ سے کام سے کام لیں۔ پھر کہنے لگا۔ آپ جس غرض کیلئے ولایت گئے تھے وہ مجھے معلوم ہے اور وہ یہی ہے کہ آپ نے حکومت کے خلاف وہاں مشنری رکھے ہوئے ۔ رکھے ہوئے ہیں انہیں آپ مخفی ہدایات دینے گئے تھے۔ اب آپ جو مخفی تحریر میں بھیجنا چاہیں وہ میں لے جایا کروں گا۔ آپ ! آپ اس طرح کریں کہ کارڈ کا ایک ٹکڑا آپ اپنے مشنریوں کو دیں اور دوسرے میرے ذریعہ بھیجیں۔ جب دونوں ٹکڑے ایک دوسرے کے ساتھ فٹ (FIT) ہو جایا کریں گے تو آپ کے مشنری سمجھ لیں گے کہ آپ نے جو ہدایات ان کو بھیجی ہیں وہ اصلی ہیں۔ اس طرح وہ آپ کی ہدایت پہچان لیا کریں گے ۔ اس کا یہ قیاس تو غلط تھا اور میں نے اس کی تردید بھی کی اور کہا کہ ہم اپنی حکومت کے وفادار ہیں۔ مگر جس طرح اس نے کہا تھا کہ ایک ٹکڑا آپ اپنے مشنری کو دے دیں اور دوسرا ٹکڑا مجھے بھجوا دیں جب وہ دونوں ٹکڑے مل جائیں گے تو مشنری سمجھ لے گا کہ آپ نے جو ہدایات بھیجی ہیں وہ اصلی ہیں۔ یہی حالت انسان کی روحانیت کے متعلق ہوتی ہے۔ ایک ٹکڑا کلام الہی کا انسان کے دماغ میں ہوتا ہے اور دوسرا ٹکڑا نبی کے پاس ہوتا ہے جب وہ دونوں فٹ ہو جاتے ہیں تو پتہ لگتا ہے کہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر فٹ نہ ہوں تو معلوم ہو جاتا ہے کہ ایسا کلام پیش کرنے والا ھو کا باز ہے۔ غرض روحانی ترقیات کیلئے یہ ضروری ہے کہ کتاب مبین اور کتاب مکنون کا اتحاد کی تعلیم نازل ہو جو روحانی قابلیتوں کے مشابہ وہی ہو ۔ پس اس طرح ایک رنگ میں کلام الہی انسانی دماغ میں بھی موجود ہوتا ہے ۔ لیکن وہ مخفی ہوتا ہے اور اس کا ابھارنا ایک کتاب واضح کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم کا نام اسی جہت سے کتاب مبین آیا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے ۔ قَدْ جَاءَ كُمْ مِّنَ اللَّهِ نُورٌ وَ كِتٰبُ مبين هو اے لوگو! تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نور اور واضح کتاب آچکی ہے اس سے فائدہ اٹھاؤ۔ پس روحانی قابلیتیں بنزلہ زمین کے پانی کے ہیں جو آسمانی پانی کے قرب کے ساتھ اونچا