انوارالعلوم (جلد 11) — Page 148
انوار العلوم جلد 11 الدي فضائل القرآن (۲) قرآن کریم کا دنیا میں نزول ہوا۔ اب دیکھ لو۔ وہی قرآن ہے جو پہلے تھا مگر اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ کیسے کیسے معارف اور حقائق نکل رہے ہیں اور کس طرح قرآن ساری دنیا پر غالب آ رہا ہے۔ در حقیقت اس آیت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کی خبر دی گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ قرآن اس وقت دنیا سے اٹھ جائے گا۔ مگر پھر خدا تعالیٰ کے ایک فرستادہ کے ذریعہ اسے زمین پر قائم کر دیا جائے گا۔ پھر فرماتا ہے قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ سپر چولزم اور ہپناٹزم والوں کو چینج وَالْجِنَّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا ۔ تو ان لوگوں سے کہدے کہ اگر جن وانس بھی مل جائیں تب بھی وہ اس قرآن کی مثل یعنی روحانی ترقیات کا راستہ بتانے والی تعلیم لانے سے قاصر رہیں گے۔ یہاں جن سے مراد وہ جن نہیں جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ لوگوں کے سروں پر چڑھ جاتے ہیں۔ ایسے جنوں کے متعلق یہ کہنا کہ ان کو بھی اپنے ساتھ ملا لو بیہودہ بات ہے۔ یہ تو ایسا ہی ہو گا جیسے کہا جائے کہ تم خواہ فلاں درخت سے مدد لے لو یا فلاں بھیڑ سے امداد حاصل کر لو تو بھی فلاں شاعر جیسے شعر نہیں کہہ سکتے۔ جس طرح یہ بات لغو ہے اس طرح ایسے جنوں کے متعلق یہ کہنا کہ ان سے مدد لے لو لغو بات ہے پس یہاں جن سے مراد کوئی اور وجود نہیں ہیں۔ بلکہ وہ وجود مخفیہ ہیں جن کا نام سپر چولزم والے ارواح اور ہیپناٹزم والے قوائے روحانیہ رکھتے ہیں۔ چونکہ یہ نظروں سے پوشیدہ ہوتے ہیں اس لئے ان کو جن کہا گیا ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ کسی عقلمند کا دعوی نہیں تھا کہ جنات سے مل کر وہ اعلیٰ روحانی تعلیم بنا سکتا ہے۔ پس جس چیز کا دعویٰ ہی نہیں تھا اور جس اجتماع کا امکان ہی نہیں تھا اس کا چیلنج عقل کے خلاف ہے۔ پس اس جگہ جن سے مراد وہ روحانی افعال ہیں جو سبجیکٹو مائنڈ (SUBJECTIVE MIND) سے ظاہر ہوتے ہیں یا وہ اتحاد ہے جو بقول بعض ارواح غیر مرئی سے انسانوں کا ہو جاتا ہے اور ان سے وہ بعض روحانی علوم دریافت کر لیتے ہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے تم ان سے بھی مدد لے لو وہ بھی تمہاری مدد کریں تب بھی تم اس قرآن کی مثل نہیں لا سکتے۔ پس یہاں جن سے مراد وہ ارواح ہیں جن کی مدد سے لوگ دعوئی کرتے ہیں کہ وہ نئے روحانی علوم معلوم کر سکتے ہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ان سے بھی مدد