انوارالعلوم (جلد 11) — Page 147
انوار العلوم جلد !! ۱۴۷ ہی منحصر ہے۔ تم خود اپنے طور پر اس میں بھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ فضائل القرآن (۲) یہ سوال اس زمانہ میں بڑے زور سے پیدا ہو رہا ہے کہ انسان یا تو خود روحانیت میں کمال پیدا کر کے روحانی تعلیم بنا سکتا ہے یا پھر دوسری روحوں سے تعلق پیدا کر کے ان کی امداد سے ایسی تعلیم ایجاد کر سکتا ہے۔ اس وہم میں اس زمانہ کے بڑے بڑے لوگ مبتلا نظر آتے ہیں کہ روحیں انسان کو روحانیت کا اعلیٰ رستہ بتا دیتی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ انسانی روح میں جو کمی رہ جاتی ہے وہ مردوں کی روحیں پوری کر دیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ تمہارا خیال ہے کہ تم خود روحانی طاقتوں کو ترقی دیگر اعلیٰ درجہ کی روحانی تعلیم بنا سکتے ہو ۔ اسی طرح تمہارا خیال ہے کہ محمد رسول اللہ صلی ال سلیم نے آپ ہی آپ یہ کتاب بنالی ہے اس پر خدا کی طرف سے الہام نازل نہیں ہوا۔ اس کی اپنی روحانی طاقت اس قدر ترقی کر گئی تھی کہ اس سے خود بخود ایسی باتیں صادر ہونے لگ گئیں ۔ مگر یہ درست نہیں کیونکہ انسانی طاقتیں اتنی نہیں ہیں کہ ایسا کلام بنا سکیں۔ انسانی عقل کا اپنے آپ روحانی رستہ تجویز کرنا تو الگ رہا وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذَ هَبَنَّ بِالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهِ عَلَيْنَا وَكِيلاً ۔ اگر یہ قرآن جو نازل شدہ ہے اس کو ہم تمہاری نظر سے اوجھل کر دیں تب بھی تم اپنی روحانی قوتوں کو نشوو نمادے کر ایسی کتاب نہیں بنا سکتے ۔ یعنی اگر ہم یہ بنی بنائی تعلیم ہی دنیا سے غائب کر دیں تو پھر بھی انسان اس جیسی تعلیم نہیں بنا سکتے ۔ کہا جا سکتا تھا کہ یہ قرآن کا محض ایک دعوی ہے کہ اگر قرآن کریم کی تعلیم غائب ہو جائے تو انسان اس جیسی تعلیم نہیں لا سکتے۔ اس کا ثبوت کیا ہے؟ یہ ثبوت بھی اللہ تعالیٰ نے پیش کر دیا ہے۔ چنانچہ احادیث میں آتا ہے کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا جبکہ قرآن دنیا سے اُٹھ جائے گا۔ اس کی تحریر تو رہ جائے گی مگر تعلیم پر عمل کرنے والے نہ ہوں گے۔ چنانچہ جب ایسا زمانہ آیا تو نہایت ہی لغو باتیں اسلام اور قرآن کی طرف منسوب ہونے لگ گئیں۔ اور اس کی بے نظیر اخلاقی اور روحانی تعلیم پر پردہ پڑ گیا۔ اس کے بعد فرماتا ہے اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ سوائے اس کے کہ تیرے رب کی خاص رحمت اسے دنیا میں پھر واپس لے آئے اور کوئی صورت اس کی واپسی کی نہیں ہو گی۔ چنانچہ آخری زمانہ میں رسول کریم مسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق اللہ تعالیٰ نے پھر اپنی رحمت کا ہاتھ لوگوں کی طرف لمبا کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ دوبارہ