انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 128

انوار العلوم جلد ۱۲۸ فضائل القرآن (۲) تیسری خوبی جو قرآن کریم کے مختصر آیات میں حقائق و معارف کی کثرت ظاہری حسن کو نمایاں کرتی ہے وہ اس کے مضامین کا باوجود اختصار کے مفصل ہوتا ہے۔ چنانچہ ایک ایک آیت کئی کئی مطالب بیان کرتی چلی جاتی ہے۔ اور پھر اس میں علم کلام ، علم تاریخ ، علم او امر اور علم نواہی سب ایک ہی وقت میں کام کر رہے ہوتے ہیں اور آئندہ کے لئے پیشگوئیاں بھی ہوتی ہیں۔ اس خوبی کی وجہ سے ایک طرف تو قرآن کریم نہایت مختصر ہے اور دوسری طرف جو اس میں عظیم الشان مطالب بیان ہیں وہ بائیبل اور دوسری الہامی کتب میں مل ہی نہیں سکتے۔ اس کی ایک مثال میں نے ابھی دی ہے کہ ایک چھوٹی سی آیت میں تین عظیم الشان پیشگوئیاں بیان کی گئی ہیں لیکن اس کے علاوہ قرآن کریم کا کوئی مقام لے لو یہ بات واضح ہو جائے گی۔ میں اس کے مزید ثبوت کیلئے پھر پہلی آیت کو ہی لے لیتا ہوں۔ اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ کی لطیف تغير الله تعالی فرمانا اقوا بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ - اِقْرَأْ وَ رَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ان چند آیات میں پہلے تاریخ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کیونکہ فرمایا اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ - پڑھ اس کلام کو ۔ مگر جب پڑھنے لگو تو یہ کہہ لینا کہ میں اللہ کا نام لے کر اسے پڑھتا ہوں۔ اس میں استثنا باب ۱۸ کی آیت ۱۹٬۱۸ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو یہ ہے کہ :۔ میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا۔ اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے فرماؤں گا۔ وہ سب ان سے کہے گا۔ اور ایسا ہو گا کہ جو کوئی میری باتوں کو جنہیں وہ میرا نام لے کے کہے گا نہ سنے گا تو میں اس کا حساب اس سے لونگا۔ ۳۳ پس بِاسْمِ رَبِّک میں موئی مو کی اس پیشگوئی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ کے مثیل موسی" ہونے کا دعوی پیش کیا گیا ہے اور نبوت کے تسلسل کا ذکر کیا گیا ہے۔ پھر اقرا میں تبلیغ کے واجب ہونے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ کئی کلام ایسے ہوتے ہیں جو خود پڑھنے والے کے لئے ہوتے ہیں، دوسروں کو سنانے سروں کو سنانے کیلئے نہیں ہوتے۔ وتے ۔ مگر اس کلام کے متعلق فرمایا یہ