انوارالعلوم (جلد 11) — Page 117
انوار العلوم جلد ) 114 فضائل القرآن (۲) محتاج نہ ہو۔ یہ نہ ہو کہ دعوٹی تو خود کرے اور دلیل دوسروں پر چھوڑ دے جو زیادہ مشکل کام ہے کیونکہ دعوی تو ہر ایک کر سکتا ہے لیکن دلیل دینا اور اس دعوی کو ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اخلاق کے متعلق قرآن کریم کی بے نظیر تعلیم دوسری بات حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام نے یہ بیان فرمائی کہ قرآن کریم نے اخلاق کے متعلق جو تعلیم پیش کی ہے اس کی نظیر دنیا کا کوئی مذہب پیش نہیں کر سکتا۔ چنانچہ آپ نے قرآنی علوم کی روشنی میں اخلاق کے ایسے اصول بیان کئے کہ اس وقت کے ترقی یافتہ علم النفس کے ماہرین بھی ان کے خلاف لب کشائی کی جرات نہیں کر سکتے۔ بلکہ اب تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کئی باتیں جن کی پہلے یہ لوگ مخالفت کیا کرتے تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیان فرمانے کے بعد ان کی تائید کرنے لگ گئے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اخلاق کی تعلیم قرآن کریم سے نکالی اور ان سوالات پر روشنی ڈالی کہ اعلیٰ اخلاق کس طرح پیدا ہوتے ہیں۔ ان کے حصول میں کون کون سی روکیں ہیں۔ ان کے پیدا کرنے کے کیا ذرائع ہیں۔ یہ سب باتیں قرآن کریم سے آپ نے پیش کیں اور دنیا پر اسلام کی فضیلت ثابت کی۔ تیسرے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم حقیقت نبوت کا اثبات سے حقیقت نبوت ثابت کی۔ پہلی ساری کتابیں اس بارے میں خاموش ہیں۔ چنانچہ میں نے اس کے متعلق بڑے بڑے پادریوں کو چٹھیاں لکھیں کہ بائیبل کی رو سے نبوت کی کیا تعریف ہے؟ اس پر بعض کی طرف سے یہ جواب آیا کہ ہماری اس کے متعلق کوئی تحقیق نہیں۔ حالانکہ وہ مسئلہ جس پر مذہب کی بنیاد ہے اس کی حقیقت تو معلوم ہونی چاہئے۔ مگر بڑے بڑے پادریوں نے کہا ہمیں معلوم نہیں اور ایک نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ میں نبوت کی تعریف لکھتا ہوں مگر یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ صحیح ہے یا غلط۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حقیقت نبوت قرآن کریم سے ثابت کی اور بتایا کہ ان شرائط کے ماتحت جن پر وحی نازل ہو انہیں ہم نبی کہہ سکتے ہیں ورنہ نہیں۔ جن پادریوں نے نبوت کے متعلق کچھ لکھا انہوں نے یہی لکھا کہ نبی وہ ہوتا ہے جو پیشگوئیاں کرے مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ بائیبل میں ایسے لوگوں کا بھی ذکر ہے جو پیشنگوئیاں کرتے تھے۔ مگر نبی نہ تھے۔ وہ ان میں اور