انوارالعلوم (جلد 11) — Page 116
انوار العلوم جلد 1 ١١٩ فضائل القرآن (۲) اسی طرح بعض صوفیاء نے قرآن کریم سے استدلال کر کے لکھا کہ زمین گول ہے۔ چنانچہ کولمبس کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ اسے امریکہ کی طرف جانے کا خیال محض اس وجہ سے پیدا ہوا کہ اس نے ہسپانیہ کے مسلمانوں سے سنا تھا کہ زمین گول ہے۔ غرض صوفیاء نے تو زمین کے متعلق لکھا کہ وہ گول ہے مگر ظاہری علوم رکھنے والے اسے نہ سمجھ سکے۔ اسی طرح اجرائے نبوت کے متعلق صوفیاء اور اولیاء نے تو لکھا کہ رسول کریم میں یہ کی غلامی میں نبی آسکتے ہیں۔ جیسے محی الدین صاحب ابن عربی آنے والے مسیح کو امتی بھی اور نبی بھی قرار دیتے ہیں لیکن علماء نے اس کا انکار کیا۔ اب اس زمانہ میں دیکھ لو کہ لہ ظاہری علوم رکھنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا چیلنج والوں کی سمجھ میں قرآن کریم کی کی کوئی بات نہ آئی۔ انہوں نے معذرت کے نیچے پناہ لینی چاہی اور لکھ دیا کہ قرآن میں خطابیات ہیں یعنی قرآن نے کئی باتیں ایسی لکھی ہیں جنہیں دوسرے لوگ مانتے تھے۔ ان کا یہ مطلب نہیں کہ قرآن خود بھی انہیں درست قرار دیتا ہے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسے رد کیا اور اس طرح قرآن کریم کی کی صداقت ثابت کی۔ اس کے ساتھ ہی آپ نے یہ اعلان کیا کہ کوئی ایسی بات بتاؤ جو روحانیت سے تعلق رکھتی ہو مگر قرآن میں نہ ہو۔ یا قرآن کریم کی بتائی ہوئی باتوں پر جو اعتراض پڑے وہ پیش کرو۔ آپ نے قرآن کریم سے ایسی ایسی معرفت کی باتیں نکالیں کہ انہیں پڑھنے والے سر دھنتے ہیں اور ان لوگوں کی غفلت اور نادانی پر افسوس کرتے ہیں جنہوں نے قرآن کریم کے نہ سمجھنے کی وجہ سے اسے محل اعتراض ٹھرایا ۔ اب آپ کی جماعت پر بھی خدا تعالی کا یہ فضل ہے کہ جیسے قرآن کریم کے۔ کے معارف آ۔ آپ کی جماعت کے لوگ بیان کر ان کر سکتے ہیں وہ باقی دنیا کے لوگوں سے پوشیدہ ہیں۔ حضرت مسیح موعود کے ذریعہ قرآن کریم دعوی کے ساتھ دلیل بھی پیش کرتا ہے جن قرآنی علوم اور معارف کا انکشاف ہوا ان میں سے ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ قرآن کریم جو دعویٰ کرتا ہے اس کی دلیل بھی خود ہی دیتا ہے وہ اپنی امداد کے لئے انسانوں کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتا۔ ورنہ وہ کتاب کس کام کی جو دعوی ہی دعوی کرتی جائے اور کوئی دلیل نہ دے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ وہی کتاب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو سکتی ہے جو دو سروں کی امداد کی