انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 47

انوار العلوم جلد 10 ۴۷ مسلمانان ہند کے امتحان کا وقت کریں گے تو بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔ برطانیہ کی نیت اگر خراب ہے تو وہ اس سے فائدہ اٹھائے گا۔ اور کہے گا کہ ہندوستانی چونکہ اپنی ضروریات کو ہمارے سامنے پیش نہیں کرتے اس لئے ہم ہندوستانیوں کو زیادہ اختیارات دینے کی سفارش نہیں کرتے۔ پھر ہندوستان کیا کرے گا۔ کیا تلوار سے اپنا بدلہ لے گا۔ اگر ہندوستانیوں کے پاس تلوار ہوتی تو وہ پہلے ہی اس حالت کو کیوں پہنچتے۔ اگر ہم ٹھنڈے دل سے غور کریں تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ ہندوستانیوں کو برطانوی حکومت نے کمیشن میں اس لئے شامل نہیں کیا کہ وہ اس امر کی مدعی ہے کہ ہم ہندوستان کے حاکم ہیں اور اس کی آئندہ حکومت کا فیصلہ کرنا ہمارے اختیار میں ہے اور ہندوستانی بے بس ہیں وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ اگر یہی وجہ ہے تو پھر میں پوچھتا ہوں کہ آزادی کے حاصل کرنے کے لئے کیا ہمارا یہ فرض نہیں کہ ہم زیادہ سے زیادہ طاقت حاصل کریں۔ اور جبکہ تلوار سے ہم اختیارات حاصل نہیں کر سکتے تو پھر کیا ہمارا یہ فرض نہیں کہ سمجھوتہ سے ہی جس قدر اختیارات مل سکیں حاصل کر لیں۔ کیونکہ جس قدر اختیارات بھی ہندوستانیوں کو ملیں گے ان سے ان کی طاقت زیادہ بڑھے گی اور جس قدر بھی طاقت انہیں حاصل ہو گی اُسی قدر ان کی آواز میں اثر اور زور ہو گا۔ پس اختیارات خواہ کمیشن کے ذریعہ سے ملیں خواہ بغیر کمیشن کے ، خواہ ہندوستانیوں سے پوچھ کر ملیں یا بغیر پوچھے کے ، ہمیں انہیں حقیر نہیں سمجھنا چاہئے کیونکہ ہر اختیار جو ہندوستانیوں کو ملے گا وہ ان کی طاقت کو بڑھائے گا اور انہیں آزادی کے قریب کر دے گا۔ پس کمیشن کے بائیکاٹ کا سوائے اس کے اور کوئی نتیجہ نہیں ہو سکتا کہ ان لوگوں کو جو ہندوستان کی آزادی کے مخالف ہیں یہ موقع دے دیا جاوے کہ وہ ہندوستان کی آزادی میں روڑے اٹکائیں۔ اور ہر شخص جو کمیشن کا بائیکاٹ کرے گا وہ نادانستہ طور پر ہندوستان کی آزادی میں روک ڈالنے والا بنے گا۔ میرے نزدیک اس مسئلہ کا ایک اخلاقی پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ ایسے امور میں ہتک کام کرنے والے کے دعوئی سے ہوتی ہے نہ کہ فعل ہے۔ بعض فعل اپنی ذات میں ہتک کرنے والے نہیں ہوتے لیکن اگر ان کے کرنے والے ان سے ہتک مراد لیں تو وہ ہتک بنتے ہیں ورنہ نہیں۔ کمیشن کا معاملہ بھی ایسا ہی ۔ اہی ہے۔ اگر برطانیہ کہے کہ ہم یہ امر اپنا زور دکھانے اور ہندوستانیوں کے دستانیوں کو ذلیل کرنے کے لئے کرتے ہیں تو بے شک یہ فعل ہتک بن جائے گا ورنہ نہیں کیونکہ خود اس فعل میں کوئی ایسا پہلو نہیں جو اپنی ذات میں اسے ہتک کا فعل بنا دے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ برطانوی حکومت بہ اصرار کہہ رہی ہے کہ ہماری نیت ہتک کی بالکل نہیں بلکہ ہماری نیت یہ ہے کہ (۱) چونکہ فیصلہ اس