انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 46

انوار العلوم جلد 10 مسلمانان ہند کے امتحان کا وقت حسین اور سر عبدالرحیم کا نام شائع کرنے کی ذمہ داری تو میری جماعت پر ہے کیونکہ ہمارے مبلغین نے ہی ان کے نام اس غرض سے انگلستان کی اخبارات میں شائع کئے تھے لیکن مسٹر جناح کا نام کبھی اس غرض کے لئے نہیں لیا گیا اور میں ان کی واقفیت کے بعد کہہ سکتا ہوں کہ ان پر ایسا الزام لگانا ظلم ہے۔ ان کی رائے یقینا دیانتداری پر مبنی ہے لیکن افسوس کہ غلط ہے اور میرے نزدیک مسلمانوں کے لئے سخت مفر یہ خیال بالکل درست ہے کہ برطانوی حکومت نے ہندوستانیوں کی ہتک کرنے کے لئے ہندوستان کا نام کمیشن میں نہیں رکھا۔ حکومت ہند کے ارکان کا نام بھی کمیشن میں نہیں ہے بلکہ کمیشن صرف پارلیمنٹ کے ممبروں پر مشتمل ہے۔ پس کیا یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ حکومت برطانیہ نے ارکان حکومت کا نام بھی ان کی ہتک کرنے کے لئے نہیں رکھا۔ پس یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ برطانوی حکومت نے اس لئے کہ ہندوستانیوں کو کمیشن کا ممبر نہ بنانا پڑے صرف پارلیمینٹ کے ممبروں کا کمیشن بھیجا ہے لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انہوں نے ہندوستانیوں کی ہتک کی ہے ہم اپنے متعلق خواہ کچھ کہیں مگر اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دانستہ یا نادانستہ ہم انگریزی حکومت کے ماتحت کم و بیش دو سو سال سے آچکے ہیں اور جو ہماری ہتک ہونی تھی وہ ہو چکی ہے۔ اب حکومت کے پہلو سے اس سے زیادہ ہتک ہماری کوئی نہیں کر سکتا۔ اگر برطانوی حکومت سیاسی طور پر ہماری ہتک کرنا بھی چاہے تو نہیں کر سکتی۔ وہ شخص ہتک کر سکتی ہے، مذہبی ہتک کر سکتی ہے، تمدنی ہتک کر سکتی ہے لیکن یہ اس کے بس میں بھی نہیں کہ سیاستا وہ ہماری ہتک کرے کیونکہ ہم ایک بڑے لمبے عرصہ سے نہتے ہو کر اس کے قبضہ میں جاچکے ہیں اور اس بات کا کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ یا تو ہم میں ہمت ہو تو ہم انگریزوں کو جبراً ملک سے باہر نکال دیں اور یا پھر اس صداقت کو قبول کریں کہ انگریز ہم پر حاکم ہیں۔ اور جب ہم جبراً انہیں نہیں نکال سکتے تو پھر ہم ان سے سمجھوتہ کرکے ہی جو کچھ حاصل کر سکتے ہیں کر سکتے ہیں۔ پس جب فیصلہ انہیں کے ہاتھ میں ہے اور اس کا کسی کو انکار نہیں تو پھر ہندوستانیوں کا کمیشن میں ہونا نہ ہونا عزت وہتک سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ میں کمیشن کے بائیکاٹ کرنے کا مشورہ دینے والوں کی دلیل کے سمجھنے سے بالکل قاصر ہوں۔ آخر اس بائیکاٹ سے ان کا کیا مطلب ہے۔ کیا ان کا یہ خیال ہے کہ بائیکاٹ کی وجہ سے کمیشن اپنا کام نہیں کر سکے گا؟ اگر یہ خیال ہے تو اس سے بودا خیال اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ کمیشن نے تو یہ رپورٹ کرنی ہے کہ آیا ہندوستانیوں کو اور اختیارات ملنے چاہئیں یا نہیں۔ اگر ہندوستانی بائیکاٹ