انوارالعلوم (جلد 10) — Page 584
انوار العلوم جلد ۱۰ ۵۸۴ توحید باری تعالی کے متعلق آنحضرت کی تعلیم چھوڑ دیا جائے۔ آپ تو یہ کہتے کہ سب سے پہلے ان کو مارا جائے۔ مگر آپ نے فرمایا جو تلوار لے کر حملہ کرتا ہے اسے مارو۔ لیکن جو لوگ مذہبی کاموں میں لگے ہوئے ہوں ان کو نہ مارو۔ چھٹی مثال دنیا میں طریق ہے کہ جن لوگوں سے جنگ ہوئی ہے، ان کے احساسات کا خیال نہیں رکھا جاتا اور مفتوح اقوام کو ہر طرح دبانے اور ان کے جذبات کچلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انگریزی حکومت بڑی مہذب کہلاتی ہے مگر آج تک لاہور میں لارنس کا مجسمہ ہاتھ میں تلوار لئے کھڑا ہے۔ جس کے نیچے ہندوستانیوں کو مخاطب کر کے لکھا ہے۔ لوگوں قلم کی حکومت چاہتے ہو یا تلوار کی ہر ہندوستانی سمجھتا ہے اس میں اہل ہند کی ہتک کی گئی ہے اور انہیں کہا گیا ہے اگر تم قلم کی حکومت نہ مانو گے تو تلوار کے زور سے تم پر حکومت کی جائے گی۔ ہندوستانیوں نے اس مجتمہ کے ہٹائے جانے کے لئے بڑا زور بھی لگایا۔ مگر گورنمنٹ نے نہیں مانا۔ رسول کریم سلم کی شان دیکھئے بلکہ والوں نے آپ پر کس قدر ظلم کئے تھے۔ متواتر ۱۳ سال مکہ والے آپ اور آپ کے ساتھیوں پر مظالم کرتے رہے۔ عورتوں کی شرمگاہوں: اہوں میں نیزے مار کر ہلاک کیا گیا۔ رسیوں سے باندھ کر تپتی ریت پر گھسیٹا گیا۔ بھٹیوں سے کو کے نکال کر ان پر مسلمانوں کو لٹایا گیا۔ پتھریلی زمین پر گھسیٹا گیا۔ بعض مردوں اور عورتوں کی آنکھیں نکال دی گئیں۔ اور یہاں تک ظلم کئے گئے کہ آخر رسول کریم میں اللہ کو اپنا پیارا وطن چھوڑنا پڑا۔ وہاں بھی ان ں نے آپ کو چین نہ لینے دیا۔ وہاں کے لوگوں کو آپ ۔ آپ کے خلاف اکسایا۔ قیصر اور کسری کی حکومتوں کو اشتعال دلایا۔ مگر جب ایسی قوم کے خلاف آپ دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ چڑھائی کر کے جاتے ہیں تو ابو سفیان آ جاتا ہے اس وقت مسلمانوں کی آنکھوں کے سامنے اہلِ مکہ کے سارے مظالم ایک ایک کرکے آ رہے ہیں۔ ان کا خون جوش سے اہل رہا اور وہ سمجھ رہے ہیں آج ہم اپنے بھائیوں کے خون کے ایک ایک قطرہ کا بدلہ لیں گے۔ اس وقت فوج کے ایک حصہ کا کمانڈر کہتا ہے آج مکہ والوں کی خیر نہیں ، ہم ان کے ظلموں کا ان سے بدلہ لیں گے۔ اس پر ابو سفیان آگے بڑھ کر شکایت کرتا ہے کہ اس شخص نے ہمارا دل دُکھایا ہے کس کا؟ شدید دشمن، بالمقابل لشکر کے کمانڈر کا) رسول کریم میں ہم نے اس پر اس شخص کو بلوایا اور فرمایا آپ کو معزول کیا جاتا ہے کیونکہ آپ نے کفار مکہ کے احساسات کا خیال نہیں