انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 500 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 500

انوار العلوم جلد ۱۰ ۵۰۰ فضائل القرآن (1) طور پر میں نے اس طرح حل کیا ہے کہ ہر سمجھدار کی سمجھ میں آجائے گا۔ و ناسخ و منسوخ کی بحث خود مسلمانوں کا پیدا کردہ ہے۔ کیونکہ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ (۹) ایک سوال قرآن کریم کے متعلق ناسخ و منسوخ کا آجاتا ہے۔ یہ قرآن کریم کی بعض آیتیں منسوخ ہیں۔ انہیں بعض دوسری آیتوں یا حدیثوں نے منسوخ کر دیا ہے۔ وہ پڑھی تو جائیں گی مگر ان پر عمل نہیں کیا جائیگا۔ یورپ والوں نے اس کے متعلق کہا ہے کہ ناسخ منسوخ کا ڈھکوسلا اس لئے بنایا گیا ہے کہ قرآن کریم میں صریح تضاد پایا جاتا ہے۔ جب اسے دور کرنے کی مسلمانوں کو کوئی صورت نظر نہ آئی تو انہوں نے متضاد آنتیوں میں سے ایک آیت کو ناسخ اور دوسری کو منسوخ قرار دے دیا۔ (۱۰) پھر ایک یہ بھی سوال ہے کہ آیا نزول قرآن کا مقصد اور اس کا پورا ہونا قرآن کریم اس مقصد کو پورا کرتا ہے جس کے لئے کوئی مذہب نازل ہوتا ہے۔ ہر ایک الہامی کتاب اس وقت مفید ہو سکتی ہے جب اس مقصد کو پورا کرے جسے الہامی کتاب کو پورا کرنا چاہیے ۔ اور لوگ جن الہامی کتب کو مانتے ہیں ان کی کوئی نہ کوئی ضرورت بھی ثابت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کتاب آنے کی یہ یہ ضرورت تھی اب سوال یہ ہے کہ کیا قرآن کریم اُس ضرورت کو پورا کرتا ہے جس کے لئے وہ نازل ہوا ہے ؟ اگر کرتا ہے تو خدا تعالیٰ کی کتاب ہے ورنہ نہیں۔ (11) پھر قرآن کریم کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ ہر طبقہ اور ہر فطرتِ انسانی کے مطابق تعلیم درجہ کی فطرت کے لوگوں کے لئے ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا قرآن کریم کی تعلیم فی الواقع ایسی ہے کہ اس سے ایک ان پڑھ بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے اور اگر ایک عالم پڑھے تو وہ بھی مستفیض ہو سکتا ہے۔ اگر اس کی تعلیم ایسی ہے تو یہ کتاب خدا تعالیٰ کی طرف سے کہلا سکتی ہے۔ ورنہ نہیں۔ (۱۲) ایک اور سوال ہمارے سامنے یہ آتا ہے کہ قرآن کریم کے فہم قرآن کے اصول فہم کے اصول کیا ہیں؟ ہر کتاب کو سمجھنے اور اس سے مستفیض سے ہونے کے لئے کوئی نہ کوئی کلید ہوتی ہے۔ قرآن کریم کے سمجھنے کے لئے کن اصول کی ضرورت ہے؟ گویا قرآن کریم کو اصول تفسیر بھی بیان کرنے چاہئیں تاکہ ان سے کام لے کر ہر XXXXXXX