انوارالعلوم (جلد 10) — Page 467
انوار العلوم جلد ۱ Th نہرور پورٹ اور مسلمانوں کے مصالح مسلمانوں سے مل کر کام کر رہے ہیں۔ پس کونسلوں کے انتخاب کے لحاظ سے تو ہمیں اس کا کوئی خاص برا اثر نظر نہیں آتا۔ میرا خیال یہ ہے کہ اگر دوسرے مسلمان اس پر متفق باہمی تفاہم کیلئے ایک مفید تجویز ہوں تو طریق انتخاب کے متعلق یہ سمجھوتہ کر لیا جائے۔ عرصہ میں کہ مسلم لیگ کے مطالبات کے پورا ہو جانے اور سوراج کے حصول کے بعد دس سال تک ان صوبوں میں جہاں ہندو یا مسلمان چاہیں جداگانہ انتخاب کا طریق جاری رہے۔ اس دس سال کے میں اگر وہ قوم جس کار قوم جس کا یہ مطالبہ ہو ، خوشی سے ! خوشی سے اپنے حق کو چھوڑ دے تو اس کی مرضی ، ورنہ دس سال تک جداگانه انتخاب ضرور رکھا جائے۔ اس کے بعد جن صوبوں میں ہندو یا مسلمان کمزور اقلیت ہیں، وہاں تو اس وقت تک کیلئے کہ وہ اقلیت اپنی مرضی سے اپنے حق کو نہ چھوڑے، مخلوط انتخاب اور محفوظ نشتوں کے طریق کو جاری رکھا جائے۔ اور پنجاب اور بنگال میں ایک مقررہ عرصہ تک مخلوط انتخاب اور محفوظ نشتوں کے طریق کو جاری کیا جائے۔ اس کے بعد خالی مخلوط انتخاب کو۔ مگر شرط یہی ہو کہ ڈومینین سلف گورنمنٹ (DOMINION SELF GOVERNMENT) کے حصول اور مسلمانوں کی شکایات کے دور ہونے کے بعد سے یہ انتظام شروع ہو تاکہ مسلمان اپنے حق سے پورا فائدہ اٹھا کر اپنے قدموں پر کھڑے ہو سکیں۔ میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ میں اس بات کو بطور تجویز نہیں بلکہ بطور ایک خیال کے پیش کرتا ہوں جس پر غور کر کے ممکن ہے کہ کوئی مفید درمیانی راہ نکل سکے ۔ جو مسلمانوں کے دونوں مختلف گروہوں کو اکٹھا کر دے۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ اگر ایک کافی عرصہ مسلمانوں کو آزاد گورنمنٹ میں اپنے حقوق کی حفاظت کا اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا مل جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ تدریجی ترقی کے بعد کھلے میدان میں اپنے حریف کا مقابلہ کرنے کے قابل نہ ہو سکیں۔ اور خصوصاً جب کہ یہ انتظام صرف بنگال اور پنجاب کے لئے ہو جہاں کہ مسلمانوں کی اکثریت ہے تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ ہم لوگوں کے لئے اس میں کیا نقصان ہے۔ بہر حال یہ ایک تجویز ہے جس پر ہندو اور مسلمان اگر غور کریں تو شاید باہمی تفاہم کی صورت پیدا ہو جائے۔ میں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ مجداگانہ انتخاب اصول انتخاب کے بالکل خلاف نہیں ہے۔ اور صرف یہ کہہ دینا کہ یورپ میں اس پر عمل نہیں ہوتا اس لئے یہ طریق ہی صحیح نہیں،