انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 466 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 466

انوار العلوم جلد ۔) ۴۶۶ شہرور پورٹ اور مسلمانوں کے مصالح تائید میں مسلمانوں کے ایک معتد بہ حصہ کی رائے ہے۔ لیکن جہاں تک میں سمجھتا ہوں، سب کے سب اس امر پر متفق ہیں کہ جدا گانہ انتخاب ایک عارضی علاج ہے۔ اس لئے اس امر پر بحث کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ جدا گانہ انتخاب اصولی طور پر مخلوط انتخاب کے مقابلہ میں کیا حیثیت رکھتا ہے۔ دیکھنا صرف یہ ہے کہ کیا جدا گانہ انتخاب اس عارضی ضرورت کو بھی پورا کرتا ہے یا نہیں۔ جس کے لئے اسے تجویز کیا جاتا ہے وہ عارضی ضرورت مسلمانوں اور ہندوؤں کی آپس کی بے اعتباری ہے۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں۔ اس بے اعتباری کے وجود کا کسی کو انکار نہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ اس بے اعتباری کے زمانہ میں انتخاب کا طریق کیا ہو مسلم لیگ کا کلکتہ سیکشن بھی اس امر کو تسلیم کرتا ہے کہ جب تک بعض شرطیں پوری نہ ہو جائیں۔ اس وقت تک اس کو اُڑانا, درست نہ ہو درس ہو گا۔ اور چونکہ وہ شرطیں پوری نہیں ہوئیں، اس لئے سمجھنا چاہئے کہ وہ بھی جدا گانہ انتخاب کی تائید میں ہیں۔ میں جہاں تک سمجھتا ہوں جداگانہ انتخاب کم سے کم عارضی طور جداگانه انتخاب کا فائدہ پر فساد کے مٹانے میں ضرور مفید ہو گا۔ یہ خیال کہ اس وقت تک اس نے کیا اثر کیا ہے ، چنداں وزن نہیں رکھتا۔ اس لئے کہ اس کے مقابلہ میں یہی سوال کیا جا سکتا ہے کہ اس وقت تک ڈسٹرکٹ بورڈوں کے مشترک انتخاب نے کیا اثر کیا ہے۔ یا ان میونسپل کمیٹیوں کے انتخاب نے کیا اثر کیا ہے جہاں مخلوط انتخاب ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جدا گانہ انتخاب اگر بُرا ہے تو بین الاقوامی تعلقات کے لحاظ سے نہیں بلکہ اندرونی تعلقات کے لحاظ سے۔ بین الاقوامی تعلقات تو اس ۔ سے ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں۔ ہاں یہ ضرور نقص پیدا ہو جاتا ہے کہ قوم میں اقدام کی روح کمزور ہو جاتی ہے۔ لیکن اس وقت چونکہ ہندو مسلم تعلقات خراب ہیں ، اس کو اختیار کرنا اشد ضروری ہے۔ اس طریق کے اختیار کرنے کا یہ نتیجہ ہو گا کہ دونوں قومیں اطمینان سے کام کریں گی۔ موجودہ تجربہ بھی اس کی تائید کرتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جدا گانہ انتخاب کے طریق پر عمل کرتے ہوئے ایک جگہ بھی خالص مسلم پارٹی کوئی نہیں بنی۔ اگر جدا گانہ انتخاب تفرقہ پیدا کر تا تو چاہئے تھا کہ کو نسلوں میں مسلم اور ہندو پارٹیاں بنتیں۔ مگر ان پارٹیوں کا نہ بننا بناتا ہے کہ اس تجویر میں وہ نقص نہیں ہے جو اس کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ آخر اس جدا گانہ انتخاب کی مدد سے وہ مسلمان بھی کامیاب ہوئے ہیں۔ جو سوراج پارٹی میں شامل ہیں۔ اور وہ بھی جو مخلوط انتخاب کے حامی ہیں اسی طرح وہ ہندو بھی جو