انوارالعلوم (جلد 10) — Page 384
انوار العلوم جلد ۱۰ ۳۸۳ شهر ور پورٹ اور مسلمانوں کے مصالح سکھ ہندوؤں سے زیادہ ساز باز رکھتے ہیں۔ سکھوں کے علاوہ خالص ہندو اقوام جو لڑنے کے قابل ہیں ہندو جاٹ ، ہندو راجپوت ڈوگرے پوربی ، مرہٹے اور جنوبی ہند کی بہت سی اقوام ہیں ۔ گورکھے گوند با بدھ ابدھ ہیں مگر وہ اپنے آپ کا روہ اپنے آپ کو ہندو مذہب کا حصہ سمجھتے ہیں۔ پس یہ خیال کر لینا کہ ہندوؤں میں طاقت کہاں سے آئی۔ ایک وہم اور ایک دل خوش کن لیکن تباہ کرنے والے خیال سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا مسلمان اس امر پر پھول رہے ہیں کہ اس وقت فوجوں میں مسلمانوں کا عنصر زیادہ ہے ، حالانکہ یہ انگریزوں کی پالیسی ہے ایک ایسے ملک میں کہ جس میں ہندو آبادی زیادہ ہے۔ اپنی حکومت کو مضبوط کرنے کیلئے انگریزوں کی مصلحت یہی ہونی چاہئے کہ وہ قلیل التعداد جماعتوں کو ان کی نسبت سے زیادہ فوج میں بھرتی کریں۔ لیکن ایک آزاد ہندوستان میں یہ ضرورت نہ رہے گی۔ بلکہ اس کے برخلاف اکثریت کو یہ خیال ہو گا کہ اپنی اقت کو مضبوط کرنے کیلئے اپنے ہم مذہبوں کی فوج کو بھرتی بھرتی کریں۔ اور سکھ ، ڈوگرے راجپوت جاٹ، مرہٹے گورکھے، پوربی اور جنوبی ہند کی اقوام کو ملا کر کم سے کم پانچ چھ کروڑ کی آبادی ہے جس میں سے فوج بآسانی بھرتی کی جا سکتی ہے۔ پس یہ خیال کہ ہم زور سے منوالیں گے ، ایک شیطانی وسوسہ ہے ، جسے جس قدر جلد دل سے نکالا جائے اس قدر اچھا ہے۔ بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم عدم تعاون سے کام لیں گے۔ لیکن یاد رہے کہ عدم تعاون بڑی جماعت چھوٹی جماعت کے مقابلہ میں استعمال کر سکتی ہے۔ نہ کہ چھوٹی جماعت بڑی جماعت کے مقابلہ میں۔ تھوڑے سے لوگ اور خصوصاً وہ لوگ جن کے کام پر ملک کا تمدن یا ملک کی سیاست قائم نہیں ، بہتوں کے مقابلہ میں کر کیا سکتے ہیں۔ برد ولی میں ہندوستانیوں کو کیا طاقت حاصل تھی۔ یہی کہ ملک ان کے ساتھ تھا۔ انگریز اپنے ملک سے آکر ہندوستان کی زمینداریاں خرید نہیں سکتے تھے۔ لیکن اگر کسی وقت ہندو مسلمان کا مقابلہ ہو تو ہندوؤں کو وہ وقت نہ ہوگی جو انگریزوں کو ہے۔ ان کے پاس ایک ایک مسلمان کے مقابلہ میں تین تین ہندو موجود ہونگے۔ پس عدم تعاون سے مقابلہ کا خیال بھی بالکل دور از قیاس ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ بیرونی ملکوں بیرونی ممالک کی امداد سے مطالبات حاصل کرنا سے ملکر مسلمان اپنے حقوق واپس لے لیں۔ مگر یہ بھی ممکن نہ ہو گا۔ کیونکہ اول تو دوسرے ملکوں کو کیا مصیبت پڑی ہے کہ ان کی خاطر ایک زبردست ہمسایہ طاقت سے لڑیں۔ کیا اس سے پہلے قریب کے زمانہ میں کسی