انوارالعلوم (جلد 10) — Page 383
انوار العلوم جلد ۱۰ ۳۸۳ شهر و ر پورٹ اور مسلمانوں کے مصالح کرنا کہ مسلمان سپاہی اس گورنمنٹ کو چھوڑ کر جس کے وہ وه تنخواہ دار ہونگے مسلمانوں کا ساتھ دیں گے ایک بعید از قیاس امر ہے۔ اب بھی دیکھ لو کہ وہ برطانوی حکومت کا ساتھ دیتے ہیں یا ہندوستانیوں کا۔ سپاہی کی اٹھان ہی وفاداری کے جذبات پر ہوتی ہے۔ اور وہ حکومت کی مخالفت کا ارتکاب کرنے کیلئے جلد تیار نہیں ہوتا۔ نیز آجکل فوج کا نظام ایسا ہے کہ کوئی حصہ بغاوت نہیں کر سکتا کیونکہ کوئی حصہ فوج کا اپنی ذات میں مکمل نہیں ہوتا۔ بلکہ چھ سات قسم کی فوج ہوتی ہے۔ جو جنگ کے وقت ایک دوسرے کی محتاج ہوتی ہے۔ اور ہر حصہ جانتا ہے کہ اگر میں علیحدہ ہو جاؤں تو خود تباہ ہو جاؤں گا۔ علاوہ ازیں ہوائی جہاز اور ٹینک اور نئی قسم کی توپوں نے اب جنگ کا نقشہ ہی بدل دیا ہے۔ ایک جہاز ایک علاقہ کے علاقہ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ایک ٹینک ایک فوج کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ غرض اب جنگ آلات جنگ پر منحصر ہے نہ کہ انسانی طاقت اور شجاعت پر۔ اور اس وجہ سے بہادری اور قربانی بغیر آلات جنگ کے وہ نفع نہیں پہنچا سکتی جو آج سے پہلے پہنچا سکتی تھی۔ اسی وجہ سے آج کل جن ملکوں میں بغاوت ہوتی ہے۔ وہ ایک حصہ رعایا کی بغاوت نہیں ہوتی بلکہ سب ملک کی بغاوت ہوتی ہے۔ لوگ اندر ہی اندر سب ملک کو اکساتے ہیں اور فوج اور حکام اور رعایا یک دم مقابلہ کرتی ہے۔ اور صرف چند اعلیٰ افسر مقابلہ پر رہ جاتے ہیں لیکن ہندوستان میں یہ صورت مسلمانوں کیلئے کبھی بھی پیدا نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ اکثر حصہ آبادی کا ہندو ہے اور لامحالہ ان کو ہندو گورنمنٹ سے ہی ہمدردی ہوگی۔ علاوہ ازیں مسلمانوں کو اس امر کا بھی خیال رکھنا چاہئے کہ ہندو قوم بننے کا ہی نام نہیں۔ پنجاب کے مسلمان عام طور پر اسی وہم میں مبتلاء ہیں کہ ان بنیوں نے ہمارا کیا مقابلہ کرنا ہے۔ حالانکہ سکھ بھی تمدنی لحاظ سے ہندوؤں میں شامل ہیں گو مذہب وہ ان سے دور اور مسلمانوں کے قریب ہیں۔ دوسرے بعض سیاسی حالات ایسے پیدا ہو گئے ہیں کہ جب تک کوئی خاص دل و دماغ کا لیڈر پیدا نہ ہو ہ ہو سکھ سیاستاً بھی ہندوؤں سے ملنے پر ملنے پر مجبور ہونگے کیونکہ سکھ صرف پنجاب میں ہیں۔ اور یہاں انہیں ویسی ہی اہمیت حاصل ہے جو تمام ہندوستان میں مسلمانوں کو حاصل ہے۔ لیکن پنجاب کے مخصوص حالات کے ماتحت کہ یہاں کی اکثریت جو مسلمانوں پر مشتمل ہے بہت تھوڑی ہے ، انہیں خاص حقوق نہیں دیئے جا سکتے ۔ اور ان کی اس خواہش کے پورا ہونے ۔ میں روک مسلمان ہیں۔ پس وہ ان حالات سے مجبور ہیں کہ ہندوؤں سے سمجھوتہ کریں۔ اسی وجہ سے باوجود مسلمانوں کی کوشش کے اور گوردواروں کے معاملہ میں ہندو قوم کے مقابلہ کے