انوارالعلوم (جلد 10) — Page 363
انوار العلوم جلد ۱۰ ۳۶۳ شهرور پورٹ اور مسلمانوں کے مصالح چوتھا مطالبہ یہ ہے چوتھا مطالبہ صوبہ سرحدی اور بلوچستان کیلئے نیابتی حکومت کہ صوبہ سرحدی اور بلوچستان کو دوسرے صوبوں کی طرح نیابتی حکومت دی جائے۔ اور سندھ کو الگ صوبہ بنا کر اسے بھی نیابتی حکومت دی جائے۔ پانچواں مطالبہ یہ ہے کہ کسی صوبہ میں بھی پانچواں مطالبہ اقلیت کی زبان کی حفاظت اکثریت کو اقلیت کی زبان یا اس کے طرز تحریر میں دخل دینے کا حق نہ ہو۔ بلکہ اقلیت اگر اپنی زبان کو زندہ رکھنا چاہئے۔ تو اس زبان کی تعلیم کا سکولوں میں انتظام کرنا حکومت کے لئے ضروری قرار دیا جائے۔ چھٹا مطالبہ یہ ہے کہ حکومت کو مذہب چھٹا مطالبہ مذہب اور تبلیغ مذہب کی آزادی یا مذہب کی تبلیغ میں دخل دینے کا کوئی حق نہ ہو نہ تبدیل مذہب کے لئے وہ کوئی پابندیاں مقرر کر سکے اور نہ حکومت کو کوئی ایسا قانون پاس کرنے کا اختیار ہو جو کہ کسی قوم کی تمدنی یا اقتصادی حالت کو نقصان پہنچانے والا ہو۔ جیسے مثلاً گائے کے ذبح کے متعلق یا اسی قسم کے اور امور کے متعلق اس قسم کے قوانین اسی وقت پاس کئے جاسکیں جب کہ خود اس قوم کے ۳/۵ ممبران اس کی تائید میں ہوں جن پر ان قوانین کا خاص طور پر اثر ہوتا ہے۔ میری طرف سے ساتواں مطالبہ یہ ساتواں مطالبہ ، قانون اساسی اور اس کی تبد تبدیلی بھی پیش ہو تا رہا ہے کہ ان حقوق کو قانون اساسی میں داخل کیا جائے۔ اور قانون اساسی اس وقت تک نہ بدلا جا سکے جب تک کہ منتخب شدہ ممبروں میں سے ۲/۳ ممبر اس کے بدلنے کی رائے نہ دیں۔ اور یہی کافی نہ ہو بلکہ اس کے بدلنے کیلئے یہ شرط بھی ہو کہ تین دفعہ کی متواتر منتخب شده مجالس آئینی پے در پے ۲/۳ رائے سے اس کے بدلنے کا فیصلہ کریں۔ اور قانون اساسی کا جو حصہ کسی خاص قوم کے حقوق کے متعلق ہو اس کے متعلق یہ شرط ہو کہ جب تک اس قوم کے ۲/۳ ممبر جس کے حقوق کی حفاظت اس قانون میں بھی تھی اس کے بدلنے کے حق میں نہ ہوں اور تین متواتر طور پر منتخب شدہ کو نسلوں میں وہ اس تبدیلی کے حق میں ووٹ نہ دیں اسے پاس نہ سمجھا جائے۔ اور پھر اسی صوبہ میں اس تبدیلی کا نفاذ ہو۔ جس صوبہ کی کونسل کے اس قوم کے ۲/۳ منتخب شدہ