انوارالعلوم (جلد 10) — Page 362
انوار العلوم جلد ۱۰ ۳۶۲ شهر و ر پورٹ اور مسلمانوں کے مصالح کا راستہ کھولنے کے لئے جس قدر ممبریوں کا اسے حق ہو ۔ اس سے زیادہ ممبریاں اسے دے دی جائیں۔ لیکن جن صوبوں میں کہ اقلیت والی قوم یا اقوام مضبوط ہوں۔ وہاں انہیں ان کی اصلی تعداد کے مطابق حق نیابت دیا جائے ۔ کیونکہ ان صوبوں میں اگر اقلیت کو زیادہ حقوق دیئے گئے تو اکثریت اقلیت میں تبدیل ہو جائے گی۔ اس اصل کے ماتحت پنجاب اور بنگال میں ہر ایک قوم کو اس کی تعداد کے مطابق حق ممبری دیا جائے گا۔ کیونکہ ان دونوں صوبوں میں گو مسلمان زیادہ ہیں۔ مگر صرف پچپن اور چون فی صدی ہیں۔ اور اگر ار اگر ان کے حق : حق میں سے کچھ کم کر کے ہندوؤں یا سکھوں کو دیا جائے تو مسلمانوں کی اکثریت اقلیت سے بدل جاتی ہے حکومت میں غلبہ ان صوبوں میں بھی ہندوؤں کا ہی ہو جاتا ہے۔ اس کے خلاف یو پی بہار ، بمبئی ، مدراس اور ی۔ پی میں ہندوؤں کی اکثریت بہت زیادہ ہے۔ اور مسلمان بہت کم ہیں۔ پس مسلمانوں کو اوپر کے قاعدہ کے مطابق اپنے حق سے زیادہ ممبریاں ملنی چاہئیں تاکہ ان کی مختلف جماعتوں کو نیابت کا موقع مل جائے۔ اور اس طرح مسلمانوں کو زیادہ حق دینے سے ہندوؤں کا کوئی نقصان بھی نہیں۔ کیونکہ وہ پھر بھی مسلمانوں سے بہت زیادہ رہیں گے۔ اسی طرح صوبہ سرحدی صوبہ سندھ اور صوبہ بلوچستان میں مسلمان بہت زیادہ ہیں۔ پس ان تین صوبوں میں ہندوؤں کو ان کے حق سے زیادہ ممبریاں ملنی چاہئیں تاکہ ان کے ہر قسم کے فوائد کی کونسلوں میں نیابت ہو جائے۔ اس کے ساتھ یہ مطالبہ بھی ہے کہ چونکہ گل ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد صرف پچیس فیصدی ہے اس لئے انہیں مرکزی حکومت میں کم سے کم تینتیس فیصدی نیابت کا حق دیا جائے۔ یعنی جب تک مسلمان تینتیس فیصدی سے کم ہیں انہیں تینتیس فیصدی نیابت کا حق ہو مقدار میں اس نسبت سے بڑھ جا جائیں تو پھر جس قدر حق ان کا بنتا ہو وہ انہیں دیا جب وہ دیا جائے۔ تیسرا مطالبہ یہ ہے کہ جب تک ہندوؤں اور مسلمانوں میں تیسرا مطالبه جداگانه انتخاب اعتبار قائم نه نہ ہو جائے ۔ اس وقت تک سب صوبوں میں اور کم سے کم پنجاب اور بنگال میں کہ جن میں مسلمانوں کی تعداد ہندوؤں سے تھوڑی ہی زیادہ ہے۔ جدا گانہ انتخاب کا طریق جاری رہے تاکہ مسلمانوں کے نمائندے واقعہ میں مسلمانوں کے نمائندے ہوں۔ اور ہندو اثر کے ماتحت ہو کر مسلمانوں کے فوائد سے کوتاہی کرنے والے نہ بنیں۔