انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 274

انوار العلوم جلد ۱۰ ۲۷۴ دنیا کا محسن اب غور کرو اگر محمد میں یہ غلامی قائم کرنے کے لئے آتے تو چاہئے تھا کہ خباب آپ کی گردن کاٹنے کے لئے جاتا نہ یہ کہ آپ کی خاطر گرم کو ٹلوں پر کوٹتا۔ زید پھر ایک اور غلام زید ابن حارثہ تھے۔ جو ایک عیسائی قبیلہ میں سے تھے۔ ان کو کسی جنگ میں قید کر کے غلام بنایا گیا تھا۔ وہ سکتے سکتے حضرت خدیجہ کے قبضہ میں آئے اور انہوں نے شادی پر سب جائیداد سمیت ا انہیں آنحضرت میں اللہ کے سپرد کر دیا اور آپ نے انہیں آزاد کر دیا۔ جب ان کے رشتہ داروں کو پتہ لگا کہ وہ مکہ میں ہیں تو ان کا باپ اور چچا آئے اور رسول کریم سے کہا۔ ان کو آزاد کر دیں۔ آپ نے فرمایا ۔ میں نے آزاد کیا ہوا ہے۔ جہاں چاہے چلا جائے۔ اس پر اس کے باپ نے کہا چلو بیٹا۔ مگر انہوں نے کہا۔ آپ کی میرے حال پر بڑی مہربانی ہے۔ مگر بات یہ ہے کہ محمد صلی علیم سے پیارا مجھے کوئی نہیں ہے۔ اس لئے میں انہیں چھوڑ کر نہیں جاسکتا۔ اب غور کرو ایک نوجوان پکڑا ہوا آتا ہے۔ ماں باپ کی یاد کے نقش اس کے دل پر جمعے ہوئے ہوتے ہیں۔ مگر جب باپ آکر اسے کہتا ہے کہ ہمارے ساتھ چل تو وہ کہتا ہے مجھے محمد سلم کی صحبت سے اور کوئی چیز اچھی نہیں لگتی۔ اس کے بعد وہ آپ کے دعوم آپ کے دعوئی کے وقت آپ پر ایمان لاتا ہے اور آخر ایک دن اپنے خون سے حق رفاقت ادا کرتا ہے۔ اب بتاؤ کہ کیا یہ فدائیت اور محبت ایک غلام کو اس شخص سے ہو سکتی تھی جو غلامی کا حامی تھا۔ بلال ایک اور غلام تھے جن کا نام بلال تھا اور جو رسول کریم میں کے جانی دشمن امیہ بن خلف کے غلام تھے ۔ وہ ابتدائی ایام میں ہی رسول کریم ملی ام پر ایمان لے آئے ۔ امیہ انہیں جلتی ریت پر لٹا دیتا تھا اور توبہ کے لئے کہتا تھا۔ مگر وہ ایمان سے باز نہ آتے تھے ۔ اب خدارا کوئی غور کرے کہ اگر رسول کریم میں یہ غلاموں پر ظلم کرنے والے ہوتے تو بلال امیہ جیسے دشمنِ رسول کے گھر میں رہ کر آپ کے خلاف کیا کیا شوخیاں نہ کرتے ۔ وہ ایسے دشمن کے گھر میں ہو کر اور ہر قسم کی مخالف باتیں سن کر بھی آپ پر ایمان لاتے ہیں اور بڑی بڑی تکالیف اُٹھاتے ہیں۔ ان کا آقا اسی وجہ سے انہیں گرم ریت پر لٹا دیا کرتا اور وہ چونکہ عربی زبان زیادہ نہ جانتے تھے۔ اس لئے وہ زیادہ تو کچھ نہ کہہ سکتے مگر احد احد کہتے رہتے تھے۔ یعنی اللہ ایک ہے۔ اللہ ایک ہے۔ اس پر ناراض ہو کر ان کا آقا انہیں اور تکالیف دیتا اور رسی ان کے پاؤں سے باندھ کر لڑکوں کے سپرد کر دیتا تھا وہ انہیں گلیوں میں گھسیٹتے پھرتے تھے حتیٰ کہ