انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 259

انوار العلوم جلد ۱۰ ۲۵۹ دنیا کا محسن عزت نفس اور سیر چشمی کے متعلق شہادت ہے۔ مگر کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ ایک وقت اور ایک حالت کے بہت بڑے دشمن کی شہادت متعلق ہے اس لئے میں ایسی شہادت پیش کرتا تا ہوں جو رسول کریم ملی ایم کے سب سے بڑے دشمن کی ہے اور بچپن سے لے کر ادھیڑ عمر تک کے زمانہ کے متعلق ہے۔ اس شخص نے آپ کی مخالفت میں ہر طرح سے حصہ لیا تھا۔ آپ پر پتھر پھینکے، آپ کے قتل کے منصوبے کئے۔ اس کا نام نضر بن الحارث تھا۔ یہ اُن ۱۹ اشخاء اشخاص میں سے تھا جو رسول کریم میں ایم کے قتل کے منصوبہ میں شامل تھے ۔ جب دعوی کے بعد لوگ مکہ میں آنے لگے اور رسول کریم ملی ایم کے دعوی کا چرچا پھیلا تو مکہ کے لوگوں کو فکر پیدا ہوئی کہ حج کا موقع آ رہا ہے۔ بہت سے لوگ یہاں آئیں گے اور ان کے متعلق پوچھیں گے تو ان کو کیا جواب دیں گے۔ اس کے لئے انہوں نے مجلس کی۔ جس میں قریش کے بڑے بڑے سردار اکٹھے ہوئے تا کہ سب مل کر ایک جواب سوچ لیں۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی کچھ کہے اور کوئی کچھ اور سب ہی لوگ ہم کو جھوٹا سمجھیں۔ اس مجلس میں مختلف جواب پیش کئے گئے۔ ایک شخص نے کہا یہ کہدو کہ جھوٹا ہے اس وقت نضر بن الحارث کھڑا ہوا اور کہنے لگا۔ قَدْ كَانَ مُحَمَّدَ فِيكُمْ غُلَامًا حَدَثًا أَرْضًا كُمْ فِيْكُمْ وَأَصْدَ قَكُمْ حَدِيثًا وَأَعْظَمَكُمْ أَمَا نَةً حَتَّى إِذَا رَأَيْتُمْ فِي صُدْ غَيْهِ الشَّيْبَ وَجَاءَ كُمْ بِمَا جَاءَكُمْ قُلْتُمْ سَاحِرٌ لَا وَاللَّهِ مَا هُوَ بِسَاحِرٍ وہ بڑے جو جوش سے کہنے لگا۔ جو اب وہ سوچو جو معقول ہو ۔ محمد " تمہارے اندر پیدا ہوا۔ تمہارے اندر جوان ہوا۔ تم سب اسے پسند کرتے تھے اور اس کے اخلاق کی تعریف کرتے تھے۔ اسے سب سے سچا سمجھتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ بوڑھا ہو گیا۔ اور اس کے سر میں سفید بال آگئے۔ اور اس نے وہ دعوی کیا جو کرتا ہے۔ اب اگر تم کہو گے کہ وہ جھوٹا ہے تو اسے کون جھوٹا مانے گا۔ لوگ تمہیں ہی جھوٹا کہیں گے اس جواب کو چھوڑ کر کوئی اور جواب گھڑو۔ یہ دشمن کی گواہی ہے اور بہت بڑے دشمن کی گواہی ہے۔ پھر تائید کے لئے گواہی نہیں۔ بلکہ ایسی مجلس میں پیش کی گئی ہے جو آپ کی مخالفت کے لئے منعقد کی گئی تھی اور اس لئے پیش کی گئی تھی کہ کس طرح لوگوں کو آپ کی طرف سے پھرایا جائے۔