انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 246

انوار العلوم جلد ۱۰ دنیا کا محسن ہیں۔ اور ہم سمجھتے ہیں ، دنیا کی ہر قوم اور ہر مذہب کے لوگ جب سنجیدگی سے اس مسئلہ پر غور کریں گے تو انہیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ دنیا کا قیام خواہ روحانی لحاظ سے ہو اور خواہ جسمانی لحاظ اس پر ہے کہ اپنے خیالات اور اپنی زبانوں پر قابو رکھا جائے ا جائے اور ایسے رنگ میں میں کلام کیا سے جائے کہ تفرقہ اور شقاق نہ پیدا ہو۔ میں پچھلے سال شملہ گیا۔ ان دنوں رام موہن رائے صاحب شملہ میں برہمو سماج کا جلسہ جو کہ کلکتہ کے بہت بڑے آدمیوں میں۔ میں سے گزرے رے ہیں۔ ان کی برسی تھی اور شملہ میں برہمو سماج کی طرف سے جلسہ ہونا تھا۔ مسز نائیڈو ہے جو کہ ایک ہندو لیڈر ہیں۔ بڑی بھاری شاعرہ ہیں اور گاندھی جی کی طرح ہندو اور مسلمانوں میں ادب و احترام کی نظر سے دیکھی جاتی ہیں اور بہت اثر اثر رکھنے والی ہستی ہیں، وہ مجھے ملنے کے لئے آئیں۔ انہوں نے ذکر کیا کہ رام موہن رائے کی برسی کا دن ہے اور برہمو سماج نے جلسہ کیا ہے کیا یہ اچھا نہ ہو گا کہ - آ۔ آپ بھی اس جلسہ میں چلیں اور تقریر کریں۔ گو میں نے برہمو سما سماج کے متعلق کچھ لٹریچر پڑھا ہوا تھا مگر مجھے رام موہن رائے صاحب کی ذات کے متعلق زیادہ واقفیت نہ تھی۔ اس لئے میں حیران سا رہ گیا۔ لیکن معاً میرے دل میں خیال آیا کہ خواہ ان کے ذاتی حالات سے کتنی ہی کم واقفیت ہو مگر اس میں کیا شبہ ہے کہ انہوں نے شرک کو مٹانے کی ایک حد تک کوشش کی ہے۔ تب میرا انشراح صدر ہو گیا اور میں نے کہا میں اس جلسہ میں آؤں گا۔ چنانچہ میں وہاں گیا۔ مسٹر الیں۔ آر۔ داس جو وائسرائے کی کونسل کے قانونی ممبر ہیں، وہ اس جلسہ کے پریذیڈنٹ تھے اور بھی بہت سے معزز لوگ وہاں موجود تھے مسٹر نائیڈو بھی تھیں۔ سر حبیب اللہ بھی تھے۔ اتفاق ایسا ہوا اور وہاں کی سوسائٹی کے لحاظ سے یہ کوئی عجیب بات نہ تھی کہ سامعین کا اکثر حصہ اردو نہ جانتا تھا۔ مسٹر نائیڈو نے مجھ سے پوچھا۔ کیا آپ انگریزی میں تقریر کریں گے۔ میں نے کہا۔ انگریزی میں تقریر کرنے کی مجھے عادت نہیں۔ ولایت میں لکھ کر انگریزی تقریر کرتا رہا۔ مگر زبانی مختصر ا چند الفاظ کہنے کے سوا باقاعدہ تقریر کا موقع نہیں ملا۔ مسٹر نائیڈو نے کہہ دیا اردو میں ہی تقریر کریں۔ لیکن چونکہ پریذیڈنٹ صاحب بالکل اردو نہ سمجھتے تھے اور حاضرین میں سے بھی ۹۰ فیصدی بنگالی تھے جو اردو نہ جانتے تھے ، اس لئے میں نے تقریر نہ کی اور اس وجہ سے تقریر رہ گئی مگر میں تیار تھا۔ دراصل کسی کی خوبی کا نظر آنا بینائی پر دلالت کرتا ہے۔ اور خوبی کو نہ دیکھ سکنا نا بینائی کی علامت ہوتی ہے اور اسلام ہمیں