انوارالعلوم (جلد 10) — Page 245
۱۰ انوار العلوم جلد 10 الده دنیا کا محسن أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - هُوَ النَّاصِرُ دنیا کا محسن - فرموده ۷ اجون ۱۹۲۸ء بر موقع جلسه منعقده قادیان) قُلْ إِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعُلَمِينَ - لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ آج کا جلسہ اس غرض کے لئے منعقد کیا گیا ہے کہ ہمارے ملک میں وہ جلسہ کی غرض رواداری اور وہ ایک دو دوسرے کے احساسات کا ادب و احترام پیدا ہو جس کے بغیر نہ خدا مل سکتا ہے اور نہ دنیا میں امن قائم ہو سکتا ہے۔ ہمیں جو تعلیم دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ہم تمام ادیان کے بزرگوں اور ہادیوں کا ادب و احترام کریں ۔ تمام وہ لوگ جن کو ان کی قو میں خدا کی طرف سے کھڑا کیا گیا تسلیم کرتی ہیں۔ تمام وہ لوگ جن کے متبعین کی جماعتیں پائی جاتی ہیں۔ جو انہیں خدا کا مرسل اور مامور او تار یا بھیجا ہوا تسلیم کرتی ہیں ، ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کی عزت کریں۔ ان کی ہتک سے اجتناب کریں۔ اور اس تعلیم کے ماتحت ہم ہمیشہ ہی مختلف اقوام کے بزرگوں اور ان کے مذہب کے بانیوں کا ادب و احترام کرتے رہے ہیں۔ ہم یہودیوں کے بزرگوں کا ادب کرتے ہیں۔ ہم عیسائیوں کے بزرگوں کا احترام کرتے ہیں۔ ہم چینیوں کے بزرگوں کو احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ہم جاپانیوں کے بزرگوں کا ادب کرتے اور ہم اپنے ابنائے وطن ہندؤوں کے بزرگوں کی تعظیم کرتے ہیں۔ اور خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت کرتے ہیں۔ اپنی کسی نفسانیت کی وجہ سے نہیں کرتے کسی ذاتی فائدہ اور غرض کے لئے نہیں کرتے بلکہ واقعہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے اور دنیا کے لئے مامور سمجھ کر کرتے