انوارالعلوم (جلد 10) — Page 166
انوار العلوم جلد ۔ 144 حضرت مسیح موعود کے کارنامے (ب) بعض لوگ اس کے الٹ یہ خیال کرتے تھے کہ شفاعت شرک ہے۔ اور صفات باری تعالیٰ کے خلاف ہے۔ حضرت مسیح موعود وعود عليه الصلوة وا والسلام نے ان دونوں غلطیوں کو دور کیا آ۔ دور کیا آپ نے مسئلہ شفاعت کی یہ تشریح کی کہ شفاعت خاص حالتوں میں ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے اذن سے ہوتی ہے۔ پس شفاعت پر توکل کرنا درست نہیں ہے۔ شفاعت اس وقت ہو سکتی ہے جب کہ باوجود پوری کوشش کرنے کے پھر بھی انسان میں کچھ خامی رہ گئی ہو اور جب تک انسان شفیع کے ہمرنگ نہ ہو جائے شفاعت نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ شفیع کے معنی ہیں جو ڑا۔ اور جب تک کوئی رسول کا جوڑا نہ بن جائے شفاعت سے بخشا نہیں جا سکتا۔ پھر وہ جو کہتے ہیں شفاعت شرک ہے انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کہا کہ اگر شفاعت حکومت کے ذریعہ کرائی جاتی۔ یعنی رسول کریم میں سلیم خدا تعالیٰ سے حکما کہتے کہ فلاں کو بخش دے تو یہ شرک ہوتا۔ مگر خدا تعالیٰ کہتا ہے شفاعت ہمارے اذن سے ہوگا ہو گی یعنی ہم حکم دے کر رسول سے یہ کام کرائیں گے جب ہم جب ہم کہیں گے کہ شفاعت کرو تب نبی شفاعت کرے گا اور یہ امر شرک ہر گز نہیں ہو سکتا۔ اس میں نہ خدا تعالیٰ کی ہمسری ہے اور نہ اس کی کسی صفت پر پردہ پڑتا ہے۔ آپ نے ثابت کیا کہ نہ صرف شفاعت جائز ہے بلکہ دنیا کی روحانی ترقی کیلئے ضروری ہے اور اس کے بغیر دنیا کی نجات نا ممکن ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کا قانون ہے کہ ورثہ سے کمالات ملتے ہیں اگر کوئی کہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص کا باپ نماز نہیں پڑھتا۔ مگر بیٹا پکا نمازی ہو تا ہے، پھر اس بیٹے کو یہ بات ورثہ میں کس طرح ملی ؟ اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ باپ میں نماز پڑھنے کی قابلیت تھی تبھی بیٹے میں آئی ورنہ کبھی نہ آتی۔ بھینس میں یہ قابلیت نہیں ہوتی۔ اس لئے کسی بھینس کا بچہ ایسا نہیں ہوتا جو نماز پڑھ سکے۔ پس حق یہی ہے کہ کمالات ورثہ میں ملتے ہیں اور جب جسمانی کمالات ورثہ میں ملتے ہیں تو روحانی کمالات بھی ان اشخاص کو جو آدم کے مقام پر نہیں ہوتے بغیر ورثہ کے نہیں مل سکتے۔ پس انسانوں کے لئے جو اپنی ذات میں کمال حاصل نہیں کر سکتے ، نبی بھیجے جاتے ہیں یعنی خدا تعالیٰ ایسے انسان پیدا کرتا ہے جن پر آسمان سے روحانیت کے فیوض ڈالے جاتے ہیں۔ اور ان کو خدا تعالیٰ آدم قرار دیتا ہے پھر ان کی روحانی اولاد بن کر دوسرے لوگوں کو روحانی فیوض ملتے ہیں۔ اور اس طرح وہ نجات حاصل