انوارالعلوم (جلد 10) — Page 165
انوار العلوم جلد ۱۰ ۱۶۵ } حضرت مسیح موعود کے کارنامے طرف مائل ہوئے تو اس کی حقیقت ان پر کھولی گئی حتی کہ وہ عملاً بیٹے کو قتل کرنے لگے تب بتایا گیا کہ ہمارا یہ مطلب نہ تھا اور یہ خدا تعالیٰ نے اس لئے کیا تا دنیا کو بتا دے کہ خدا کے لئے ابراہیم اپنا اکلوتا اور بڑھاپے کا بیٹا بھی قربان کرنے کے لئے تیار ہے۔ یہ دوسری قسم کی اجتہادی غلطیاں ابتلائی ہوتی ہیں۔ یعنی بعض لوگوں کا امتحان لینے کیلئے۔ جیسے صلح حدیبیہ کے وقت ہوا کہ آپ کو خواب میں طواف کا نظارہ دکھایا گیا۔ مگر اس سے مراد تھی کہ آئندہ سال طواف ہو گا۔ آپ نے سمجھا کہ ابھی عمرہ کر آئیں۔ اور ایک جماعت کثیر کو لے کر آپ چل پڑے مگر اللہ تعالٰی نے حقیقت کا پھر بھی اظہار نہ کیا۔ جب روک پیدا ہوئی تو کئی صحابہ کو حیرت ہوئی اور کمزور طبائع کے لوگ تو تمسخر کرنے لگے اور اس طرح مؤمن و منافق کے ایمان کی آزمائش ہو گئی۔ یاد رکھنا چاہئے کہ الہام کے سمجھنے میں تب ہی اجتہادی غلطی لگ سکتی ہے جب الہام کے الفاظ تعبیر طلب ہوں یا جو نظارہ دکھایا جائے وہ تعبیر رکھتا ہو۔ اگر الہام دماغی اختراع ہوتا تو پھر دماغ سے ایسے الفاظ نکلتے جو واضح ہوتے نہ کہ تعبیر طلب نظارے یا الفاظ ۔ تعبیر طلب نظارے تو ارادے کے ساتھ نہیں بنائے جاسکتے مثلاً دماغ کو اس سے کیا نسبت ہے کہ وہ قحط کو دہلی گائیوں کی شکل میں دکھائے پس اجتہادی غلطی کا سرزد ہونا الہام کے دماغی اختراع ہونے کے منافی ہے اور اس تشریح کی وجہ سے یورپ کی ان نئی تحقیقاتوں پر جو الہام کے متعلق ہو رہی ہیں، پانی پھر جاتا ہے۔ کیونکہ اجتہادی غلطی کی موجودگی میں جو باریک تعبیر کا دروازہ کھلا رکھتی ہے الہام کو انسانی دماغ کا اختراع کسی صورت میں قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کیونکہ دماغی اختراع اگر فتور دماغ کا نتیجہ ہو گا تو پراگندہ ہو گا اور کبھی پورا نہ ہو گا۔ اگر ذہنی قابلیت کا نتیجہ ہو تو صاف الفاظ میں ہو گا، تعبیر طلب نہ ہو گا۔ تھیں۔ (۳) تیسری غلطی لوگوں کو شفاعت انبیاء کے متعلق لگی ہوئی تھی اور اس کی دو شقیں (الف) یہ کہ بعض لوگ خیال کرتے تھے کہ جو مرضی آئے کرو، شفاعت کے ذریعہ سب کچھ بخشا جائے گا۔ چنانچہ ایک شاعر کا قول ہے۔ مستحق شفاعت گناہگاراں اند یعنی شفاعت کے مستحق گناہگار ہی ہیں۔