انوارالعلوم (جلد 10) — Page xviii
انوار العلوم جلد ۱۰ ۹ تعارف کتب ساری زندگی اللہ تعالیٰ کی خاص راہنمائی میں خدمت دین اسلام میں گزری۔ حضور نے اسلام کی برتری اور غلبہ کیلئے دن رات ایک کردیا۔ پس آپ کے کارناموں کی تفصیل بہت لمبی ہے۔ اس تقریر میں حضرت مصلح موعود نے مثال کے طور پر حضور کے پندرہ کارناموں کا ذکر فرمایا ہے۔ مضمون کی اہمیت واضح کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:۔ یہ مضمون جماعت سے ایسا تعلق رکھتا ہے کہ اسے زندگی اور موت کا سوال کہا جاسکتا ہے۔ اور جس طرح میں اس مضمون کو اپنی جماعت کے لوگوں کے ذہن نشین کرنا چاہتا ہوں اگر وہ اس طرح ذہن نشین کرلیں تو تبلیغ میں انشاء اللہ بہت بڑی آسانی ہو سکتی ہے۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جماعت نے اس وقت تک اس مسئلہ کے متعلق بہت بے پروائی سے کام لیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کاموں پر تفصیلی طور سے نظر نہیں ڈالی گئی۔ میں نے بار ہا لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ بتاؤ تو مرزا صاحب کے آنے کی ضرورت کیا تھی؟ اگر ہم مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کارناموں پر تفصیلی نظر ڈالیں تو وہ تمام باتیں موجود نظر آتی ہیں جن کیلئے آپ کا آنا ضروری تھا۔ اور اس سوال کا جواب ایسا اہم اور اتنا وزنی ہے کہ اگر اسے تفصیل بیان کیا جائے تو کوئی حق پسند اس کا انکار نہیں کر سکتا یہ سوال ایسا اہم ہے کہ اس کے سمجھے بغیر کوئی سمجھدار شخص سلسلہ کی طرف مائل نہیں ہو سکتا۔" حضور نے وضاحت فرمائی کہ انبیاء نهایت باریک روحانی اثر دنیا میں چھوڑتے ہیں جو مادی طور پر نہیں دیکھا جاسکتا ہاں عقلی طور پر سمجھا جاسکتا ہے کہ نبی نے بیج کے طور پر ایسی چیز چھوڑی ہے جو عظیم الشان نتیجہ پیدا کرے گی۔ حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پندرہ کارناموں کا تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔ (1) خدا تعالی کی ہستی کا ثبوت اور اس کی صفاتِ کاملہ کا بیان۔ (۲) کام کرنے والی جماعت قائم کردی۔ (۳) صفات الہی کے بارہ میں غلط خیالات کا رو فرمایا۔