انوارالعلوم (جلد 10) — Page xvi
انوار العلوم جلد ۱۰ ८ تعارف کتب آگاہ فرمایا اور اس سلسلہ میں انہیں ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔ دوران سال فوت ہونے والے چند اصحاب کی دائمی جدائی پر حضور نے رنج و ملال کا اظہار فرمایا۔ آپ نے خاص طور پر حضرت مولوی عبداللہ صاحب سنوری کا ذکر کیا جو نہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے ساتھی تھے بلکہ اپنے ساتھ حضور کا ایک بڑا نشان بھی رکھتے تھے۔ سُرخ چھینٹوں والا حضور کا کرتہ ان کے پاس تھا جو ان کے دفن ہونے کے ساتھ ہی دفن ہو گیا۔ راجپال کے واقعہ کا ذکر کر کے حضور نے فرمایا کہ مذاہب میں حقیقی صلح تب ہی ہو سکتی ہے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بتائے ہوئے طریق پر عمل کیا جائے گا اور وہ ہے کہ ہر مذہب کے لوگ اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کریں دوسروں کی عیب جوئی نہ کریں۔ دوسروں کا نقص بیان کرنے سے اپنے مذہب کی سچائی ثابت نہیں ہوتی۔ فرمایا کہ اس سال تبلیغی کام بہت اچھا ہوا ہے۔ آپ نے حضرت مفتی محمد صادق صاحب کے دورہ کولمبو اور حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب نیر کے حیدر آباد کن جانے اور وہاں ان کی کامیابیوں کا ذکر فرمایا۔ حضور نے بیرونی ممالک میں کام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ لندن میں مسلم پولیٹیکل لیگ کا قیام اہم بات ہے تاکہ مسلمانوں کے مطالبات انگریز قوم تک پہنچائے جاسکیں۔ فرمایا کہ اس سال جو لوگ انگلستان میں مسلمان ہوئے ہیں وہ علمی لحاظ سے خاص حیثیت رکھتے ہیں۔ دیگر کئی ممالک سے بھی خوشکن تبلیغی رپورٹیں وصول ہوتی ہیں۔ فرمایا کہ افریقہ میں بھی اس سال اچھا کام ہوا ہے۔ کئی جگہ نئی جماعتیں قائم ہوتی ہیں وہ لوگ تعلیم میں ترقی کر رہے ہیں۔ گورنمنٹ نے ہمارے مبلغ کی تعلیمی کوششوں کو قابل تعریف قرار دیا ہے۔ ماریشس کے متعلق فرمایا کہ جب ہمارے مبلغ وہاں گئے تھے تو وہاں صرف ایک احمدی تھا۔ اب ہزاروں ہیں اور بہت سی جگہ اپنی مساجد بن گئی ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ ان خوشیوں کے ساتھ ایک رنج کی بات کا بھی ذکر کرتا ہوں۔ آپ نے فتنہ مستریان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایسے واقعات سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ الہی سلسلوں میں ایسی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ ہاں ان فتنہ پروازوں کی شرارتوں اور چالوں سے واقف رہ کر اصلاح کی کوشش ضرور ہونی چاہیے۔ جماعت اگر اپنی اصلاح کرلے تو انہیں کوئی نقصان