انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 97

انوار العلوم جلد 10 ۹۷ تقریر دلپذیر جائے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وقت ایسا کیا گیا تھا۔ ایک شخص پر سات سو روپیہ قرض تھا جس میں اس کی زمین گروی تھی۔ دوستوں نے یہ روپیہ جمع کر دیا اور اس نے زمین چھڑالی پھر یہ روپیہ ادا بھی کر دیا۔ تیسری ضروری چیز برادرانہ ہمدردی ہے۔ اس پر بھی خاص طور پر زور دینا چاہئے یعنی مصیبت اور مشکل کے وقت اپنے بھائیوں کی مدد کرنی چاہئے۔ بعض دفعہ بعض لوگوں کو بڑا ابتلاء آجاتا ہے گو یہ کمزوری ایمان کا نتیجہ ہوتا ہے مگر اس میں شک نہیں کہ ابتلاء آتا ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص بیمار پڑے اور کوئی اسے پوچھنے نہ آئے تو وہ ابتلاء میں پڑ جاتا ہے۔ کسی کے نہ آنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اسے بیماری کا پتہ ہی نہ ہو اس لئے یہ تجویز کرنی چاہئے کہ ہفتہ میں دو دن دوستوں کے ہاں جانے کے لئے مقرر کر لینے چاہئیں اور اس طرح باری باری سب دوستوں کے ہاں چکر لگاتے رہنا چاہئے۔ جہاں جماعتیں تھوڑی تعداد میں ہیں اور دوست ایک دوسرے سے دور دور رہتے ہیں وہاں اس قسم کی تجویز کی زیادہ ضرورت ہے اور ایک دوسرے کا تعاون کرنا ضروری ہے۔ پس ایک اس خُلق کی خاص طور پر نگرانی ہونی چاہئے کہ ہفتہ میں ایک دو دن دوسروں کے گھروں پر جاکر ان سے ملاقات کی جائے اور ان کے حالات معلوم کئے جائیں تاکہ اگر کسی قسم کی مدد کی ضرورت ہو تو دی جاسکے۔ چوتھی بات زبان کو قابو میں رکھنا ہے سخت کلامی بہت بڑا اثر ڈالتی ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آپس میں محبت ہوتی ہے مگر کوئی ناروا بات منہ سے نکل جاتی ہے جس سے فساد پیدا ہو جاتا ہے۔ اگر کسی دوست میں یہ عیب ہو تو اسے اس کے دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ پانچویں بات نماز با جماعت کی طرف توجہ کرنا ہے۔ میں نے کئی بار دوستوں کو اس کی طرف توجہ دلائی ہے۔ بہت جگہ اصلاح بھی ہو گئی ہے مگر ابھی ایسی جگہیں باقی ہیں جہاں توجہ کی ضرورت ہے۔ ہماری کوئی ایک بھی جماعت ایسی نہیں ہونی چاہئے جہاں نماز باجماعت نہ ہوتی ہو۔ بڑے شہروں میں سارے دوست ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے یا ساری نمازوں میں نہیں پہنچ سکتے مگر پھر بھی کوشش کرنی چاہئے کہ جس نماز میں پہنچ سکیں پہنچا کریں۔ چھٹی بات یہ ہے کہ جماعت میں سے سستی اور کاہلی کو دور کیا جائے۔ سستی سے قوموں کو بڑا نقصان پہنچتا ہے۔ ہماری جماعت میں کئی لوگ ایسے ہیں جو کوئی کام نہیں کرتے حالانکہ اسلامی طریق یہ ہے کہ کسی کو بے کار نہیں رہنے دینا چاہئے۔ سیکرٹری صاحبان اس بات کا خیال رکھیں کہ کوئی