انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 96

انوار العلوم جلد 10 ۹۶ تقریر ولندی (۱) اولاد کی تربیت۔ اس وقت تک اس کی طرف پورے طور پر توجہ نہ کرنے کا یہ نتیجہ ہوا ہے کہ کئی شخص جو بہت مخلص تھے ان کی اولاد بگڑ گئی۔ ابھی میں نے ایک خان بہادر صاحب کے متعلق جو بہت مخلص تھے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ ان کی اولاد کو سلسلہ سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ بعض لوگ اپنی اولاد کی تربیت کرنے میں خود بھی سستی اور کو تاہی کرتے ہیں اس لئے اس بات کا خیال رکھنا چاہیئے کہ جو لوگ فوت ہو جائیں ان کی اولاد کی نگرانی کی جائے اور جو زندہ ہوں مگر اولاد کی تربیت میں سستی کرتے ہوں انہیں اس طرف توجہ دلائی جائے۔ ابھی چند دن ہوئے ایک شخص نے مجھے لکھا کہ ہیڈ ماسٹر نے اس کے لڑکے کے قتل کرانے کی تجویز کی تھی جو کہ بڑی مشکل سے جان بچا کر پہنچا ہے مگر یہ واقعہ بالبداہت غلط تھا لیکن میں نے اس کی تحقیقات کی۔ کہا گیا تھا کہ شیخ عبدالرحیم صاحب نے اسے بچایا تھا۔ میں نے اس لڑکے کو بلایا اور شیخ عبدالرحیم صاحب سے بھی پوچھا انہوں نے کہا میں تو اس دن کہیں گیا ہی نہیں لڑکے کو بچانا کیسا۔ لڑکے سے پوچھا تم نے کیا لکھا تھا اس نے کہا میں نے تو خط لکھا ہی نہیں میرے بھائی نے لکھ دیا ہو گا۔ جب اس کے بھائی سے پوچھا تو اس نے بھی کہا میں نے نہیں لکھا مگر اس کے باپ نے یہاں تک یقین کر لیا تھا کہ ہیڈ ماسٹر صاحب کے متعلق گالیوں کی ایک فہرست لکھ کر کہا کہ ایسے آدمی کو کیوں رکھا گیا ہے۔ تو ایسے واقعات ہو جاتے ہیں کہ ماں باپ بچوں کی تربیت پورے طور پر نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کو سمجھانا چاہئے کہ اگر تمہارے بچوں کی اچھی تربیت نہ ہوئی تو اس میں تمہارا ہی نقصان ہو گا اور اچھی تربیت کرنے سے تمہیں ہی فائدہ پہنچے گا۔ پس بچوں کی تربیت کا ہر جگہ دوست خاص طور پر خیال رکھیں اور اب جو ان کی طرف سے رپورٹیں آئیں ان میں بچوں کی تربیت کا خاص طور پر ذکر ہو۔ دوسرے آپس کے معاملات کے متعلق خاص طور پر خیال رکھا جائے اگر کوئی ایک شخص بد معاملگی کرتا ہے تو سب کے متعلق چرچا ہو جاتا ہے۔ ایسی باتوں کو روکنے کے لئے ہر طرح انتظام اور کوشش کرنی چاہئے۔ مثلاً اگر کوئی مجبوری کی وجہ سے قرضہ نہ ادا کر سکتا ہو تو سارے مل کر اس کا قرضہ ادا کر دیں۔ آج صبح ہی یہ ذکر ہو رہا تھا کہ شادی غمی کے موقع پر جو نیوتہ کا طریق تھا وہ بھی بہت مفید تھا۔ ایسے موقعوں پر خرچ کی ضرورت ہوتی ہے اور نیو تہ کام آجاتا ہے مگر بعد میں اس میں بھی خرابیاں پیدا کر دی گئیں۔ پس اگر کوئی احمدی واقعی مجبوری کی وجہ سے قرضہ ادا نہیں کر سکتا تو جماعت کے لوگ مل کر اس کا قرضہ ادا کر دیں پھر جب کسی اور کو ضرورت ہو تو اس کی امداد کر دی