انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 94

انوار العلوم جلد 10 ۹۴ تقریر و پذیر ہے کہ جماعت بگڑ گئی ہے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر حملہ کرتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو فوت ہوئے ابھی چند سال ہوئے ہیں ترقیات کا زمانہ ابھی آیا نہیں اگر جماعت بگڑ گئی ہے تو آپ خدا کے بچے مامور کس طرح ہو سکتے ہیں۔ پس وہ شخص جھوٹا ہے جو یہ کہتا ہے کہ جماعت بگڑ گئی ہے دراصل اس کا اپنا ایمان بگڑ گیا ہے جس شخص کا جگر خراب ہو جائے وہ جو چیز کھائے اسے کڑوی لگتی ہے مگر تندرست آدمی کڑوی کو کڑوی اور میٹھی کو میٹھی کہتا ہے۔ جو شخص یہ کہتا ہے کہ ساری جماعت خراب ہو گئی ہے یقینا اس کے اندر بیماری پیدا ہو گئی ہے وہ شخص جو سفید کو سفید اور کالے کو کالا دیکھتا ہے وہ تو تندرست ہے مگر جو یہ کہتا ہے کہ ساری دنیا لال رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ہے اس کی آنکھ میں نقص ہے کہ اسے ایسا نظر آتا ہے۔ مجھ سے پوچھا گیا ہے کہ اگر کوئی یہ کہے کہ غیر مبائع سارے کے سارے خراب ہو گئے ہیں تو اسے یہ کہنے کا حق ہے یا نہیں۔ میں جو بات بیان کر رہا ہوں وہ یہ ہے کہ جس جماعت کو کوئی شخص راستی پر سمجھ کر اس میں داخل ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اپنے آپ کو بھی اسی کا ایک فرد قرار دیتا ہے اس کے متعلق اگر کہتا ہے کہ وہ ساری کی ساری خراب ہو گئی ہے تو یہ کہنے والا منافق ہے۔ مگر جس فرقہ کو کوئی ناراستی پر سمجھتا ہے اس کے متعلق وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کے عقائد درست نہیں ہیں اور وہ عقائد کے لحاظ سے خراب ہو گئے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی غیر احمدیوں کے متعلق لکھا ہے کہ وہ ناراستی پر ہیں اگر کوئی شخص غیر مبائع ہو اور پھر ہماری جماعت کو عقائد کے لحاظ سے ناراستی پر کہے تو اسے ہم منافق نہیں کہیں گے۔ مگر میں تو کسی کے متعلق بھی یہ کہنا جائز نہیں سمجھتا کہ اس میں کوئی خوبی نہیں رہی۔ دہریوں میں بھی کوئی نہ کوئی خوبی پائی جاتی ہے۔ پس اگر کوئی یہ کہے کہ عقائد میں غیر مبائع بگڑ گئے ہیں تو یہ صحیح ہو گا۔ مگر اگر کوئی یہ کہے کہ وہ اخلاق کے لحاظ سے بالکل بگڑ گئے ہیں اور ان میں کوئی خوبی نہیں رہی تو یہ غلط ہو گا۔ پس ایسا شخص جو جماعت میں ہونے کا دعویٰ کرتا ہوا یہ کہتا ہے کہ جماعت بگڑ گئی ہے۔ اس کے متعلق مقامی جماعت کے امیر کو اور مرکز میں اطلاع دینی چاہئے۔ منافق کی ایک اور علامت یہ ہے کہ وہ دوسروں کی طرف بات منسوب کر کے بیان کرتا ہے مثلا یوں کہتا ہے کہ لوگ کہتے ہیں فلاں میں یہ عیب پایا جاتا ہے۔ جو شخص اس طرح الزامات اور اتهامات پھیلاتا ہے۔ گو وہ ان کا بیان کرنا دوسروں کی طرف منسوب کرتا ہے پھر بھی وہ فتنہ انگیز