انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 93

انوار العلوم جلد 10 ۹۳ تقریر دلپذیر ایک صفحہ کا مطالعہ کیا کروں گا تو اس کا بہت بڑا فائدہ ہو سکتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب میں وہ روشنی اور وہ معارف ہیں جو قرآن کریم میں مخفی طور پر بیان ہوئے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کی اپنی کتب میں تشریح فرمائی ہے حتی کہ ایک ادنی لیاقت کا آدمی بھی انہیں سمجھ سکتا ہے۔ اس وجہ سے آپ کی کتب میں بھی وہ نور اور ہدایت ہے جو قرآن کریم میں ہے۔ قرآن کریم کو یہ فوقیت ہے کہ وہ خود خدا تعالیٰ کے الفاظ میں ہے۔ پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ ہر ایک احمدی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب میں سے کم از کم ایک صفحہ روزانہ پڑھا کرے۔ عیسائی انجیل کا مطالعہ کرتے ہیں اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو علی الاعلان وہر یہ ہیں باقی سب اسے پڑھتے ہیں۔ وہ رات کو اپنے بچوں کو سونے نہیں دیتے جب تک کہ دعا نہ کرا لیں پھر کتنے افسوس کی بات ہے کہ جن کو دہریہ اور بے دین اور کیا کیا کہا جاتا ہے وہ تو اپنی اس مذہبی کتاب کا مطالعہ نہیں چھوڑتے جس میں بہت کچھ تغیر و تبدل ہو چکا ہے مگر آپ لوگ جن کو تازہ کتابیں ملی ہیں آپ انہیں نہیں پڑھتے کم از کم ایک صفحہ روزانہ ضرور پڑھنا چاہئے۔ دوسری بات اس سال کے پروگرام میں یہ رکھی جاتی ہے کہ منافقین کا اس سال مقابلہ کرنا چاہئے جو کئی جگہ پائے جاتے ہیں وہ ظاہر میں جماعت کے ساتھ ملے رہتے ہیں مگر باطن میں دشمن ہیں لیکن یاد رکھنا چاہئے اسلام یہ اجازت نہیں دیتا کہ شر کا مقابلہ شر سے کیا جائے اور جھوٹ کے مقابلہ میں جھوٹ اختیار کیا جائے۔ خواہ کچھ ہو جائے حتی کہ جان بھی چلی جائے تو بھی شرارت کے مقابلہ میں شرارت نہیں کرنی چاہئے۔ جب میں یہ کہتا ہوں کہ منافقوں کا مقابلہ کرنا چاہئے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ ان کے حالات اور ان کی شرارتیں معلوم کی جائیں اور ان سے جماعت کو آگاہ کیا جائے۔ منافق کی ایک موٹی علامت یہ یاد رکھو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے بتائی ہے۔ کہ وہ جماعت کی عیب گیری کرے گا وہ کھلے طور پر کہے گا کہ جماعت خراب ہو گئی ہے جماعت بگڑ گئی ہے جو شخص بھی یہ کہتا ہو کہ جماعت خراب ہو گئی ہے سمجھ لو کہ وہ منافق ہے اگر کسی کے پاس ثبوت ہو تو اسے یہ تو حق ہے کہ کے زید بگڑ گیا ہے یا بکر بگڑ گیا ہے اور اگر سنی سنائی بات ہے تو زید و بکر کے متعلق بھی کسی کو یہ کہنے کا حق نہیں ہے۔ اول تو اخلاقی لحاظ سے یہ بھی جائز نہیں کہ کسی کے متعلق اس طرح کہا جائے لیکن جو زید و بکر کا نام نہیں لیتا اور نہ کوئی واقعہ پیش کرتا ہے بلکہ یونہی کہتا