انوارالعلوم (جلد 10) — Page 61
انوار العلوم جلد 10 41 افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۲۷ء ہے۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آواز دنیا میں سے گزری۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ دنیا میں سرکنڈے ہی سرکنڈے بھرے پڑے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آواز ایک ہلکی ج موعود کی سی چیخ تھی جو گونج پیدا کرتی گئی۔ وہ دنیا کی نظروں میں دیوانے کی بڑ سمجھی جاتی تھی لیکن چونکہ خدا تعالیٰ کی پھونکی ہوئی روح تھی اس لئے اس نے مردوں کو زندہ کرنا شروع کیا۔ اور جس طرح مٹی سے برتن بنائے جاتے اور جب ان پر ہاتھ مارا جاتا ہے تو ٹن کی آواز نکلتی ہے اسی طرح جب مٹی میں خدا تعالیٰ کی روح پھونکی گئی تو اس سے وہ انسان بنا جس نے ساری دنیا پر اور اس کی تمام چیزوں پر حکومت کی۔ بعینہ اسی طرح وہ آواز اٹھی اور دنیا میں اسی طرح گزری جس طرح سرکنڈوں میں سے ہوا گزرتی ہے لیکن چونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھی اس لئے سرکنڈوں نے ہی شکلیں بدلنی شروع کیں اور ان سے انسان کی شکلیں بنی شروع ہو گئیں۔ اس طرح کبھی ایک طرف انسان کی شکل بنی کبھی دوسری طرف۔ کبھی یہاں انسانی شکل بنی کبھی وہاں اور اس طرح گویا دوبارہ دنیا میں ایسے انسان پیدا ہوئے جو خدا تعالیٰ کی آواز کو دنیا میں بلند کریں۔ اس آواز پر لبیک کہتے ہوئے ہم لوگ یہاں جمع ہوئے ہیں۔ ہم میں سے بہت سے تو اس لئے آئے کہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کے سپرد کام ہوا ہے اسے کریں۔ اور بہت سے اس لئے آئے کہ وہ آواز ایک طاقت رکھتی تھی اس کے متعلق معلوم کریں کہ اگر وہ ان کے آقا اور مالک کی طرف سے آئی ہے تو اسے قبول کریں اور اگر ( نَعُوذُ بِاللهِ ) شیطان کی طرف سے آئی ہے تو اسے رد کریں۔ غرض دونوں قسم کے لوگ نیک نیتی سے یہاں جمع ہوئے ہیں۔ اور خدا تعالیٰ اسے رد نہیں کرتا جو اخلاص سے اس کی طرف آئے بلکہ جو اس کی طرف جھکتا ہے اسے اٹھاتا ہے اور منزل مقصود پر پہنچاتا ہے۔ پس آؤ پیشتر اس کے کہ ہم کام شروع کریں خدا تعالی سے عاجزانہ دعا کریں کہ اے خدا! یہ کام جو ہمارے سپرد ہوا ہے ہماری طاقتوں اور ہماری ہمتوں سے بالا ہے۔ تو خود ہی ہماری مدد کر ہماری کوششوں میں برکت ڈال تاکہ لوگ اس آواز پر لبیک کہیں اور دین کی مدد کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ دنیا اس وقت شرک سے معمور ہے۔ اور ہماری مثال ان بچوں کی ہے جو شیروں کے آگے ڈال دیئے گئے ہوں۔ اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمیں مدد نہ ملے گی تو جس طرح بچے کو شیر چیر ڈالتے ہیں اسی طرح ہماری حالت ہو گی۔ پس ہمیں دعا کرنی چاہئے کہ اے خدا! تو آپ ہی ہماری زبانوں، ہمارے قلوب، ہمارے افکار، ہمارے کاموں، ہمارے وقتوں، ہماری سعی، ہمارے خیالات، ہمارے احساسات، ہمارے جذبات، ہمارے دین، ہماری دنیا میں برکت دے تاکہ تیرے