آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 288 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 288

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 288 باب ششم طرف سے آیا ہوں اور تم اس ثبوت کو دیکھتے ہو اور پھر تکذیب کر رہس ہو۔جس چیز کو تم جلدی سے مانگتے ہو (یعنی عذاب ) وہ تو میرے اختیار میں نہیں۔حکم اخیر صادر کرنا تو خدا ہی کا منصب ہے، وہی حق کو کھول دے گا اور وہی خیر الفاصلین ہے جو ایک دن میرا اور تمہارا فیصلہ کر دے گا۔خدا نے میری رسالت پر روشن نشان تمہیں دیئے ہیں۔سو جو ان کو شناخت کرے اُس نے اپنے ہی نفس کو فائدہ پہنچایا اور جو اندھا ہو جائے اس کا وبال بھی اسی پر ہے میں تو تم پر نگہبان نہیں۔اور تجھ سے عذاب کیلئے جلدی کرتے ہیں۔کہہ وہی پروردگار اس بات پر قادر ہے کہ اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے کوئی عذاب تم پر بھیجے اور چاہے تو تمہیں دو فریق بنا کر ایک فریق کی لڑائی کا دوسرے کو مزا چکھا دے اور یہ کہ سب خوبیاں اللہ کے لئے ہیں۔وہ تمہیں ایسے نشان دکھائے گا جنہیں تم شناخت کر لو گے اور کہ تمہارے لئے ٹھیک ٹھیک ایک برس کی میعاد ہے نہ اس سے تم تاخیر کر سکو گے نہ تقدیم۔اور مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ سچ بات ہے۔کہہ ہاں مجھے قسم ہے اپنے رب کی کہ یہ بھی ہے اور تم خدائے تعالیٰ کو اس کے وعدوں سے روک نہیں سکتے۔ہم عنقریب ان کو اپنے نشان دکھلائیں گے۔ان کے ملک کے اردگرد میں اور خود اُن میں بھی یہاں تک کہ اُن پر کھل جائے گا کہ یہ نبی سچا ہے۔انسان کی فطرت میں جلدی ہے میں عنقریب تمہیں اپنے نشان دکھلاؤں گا سو تم مجھے سے جلدی تو مت کرو۔اب دیکھو کہ ان آیات میں نشان مطلوبہ کے دکھلانے کے بارے میں کیسے صاف اور پختہ وعدے دیئے گئے ہیں یہاں تک کہ یہ بھی کہا گیا کہ ایسے کھلے کھلے نشان دکھلائے جائیں گے کہ تم ان کو شناخت کر لو گے اور اگر کوئی کہے کہ یہ تو ہم نے مانا کہ عذاب کے نشانوں کے بارے میں جابجا قرآن شریف میں وعدے دیئے گئے ہیں کہ وہ ضرور کسی دن دکھلائے جائیں گے اور یہ بھی ہم نے تسلیم کیا کہ وہ سب وعدے اس زمانہ میں پورے بھی ہو گئے کہ جب کہ خدائے تعالیٰ نے اپنی خداوندی قدرت دکھلا کر مسلمانوں کی کمزوری اور ناتوانی کو دور کر دیا اور معدودے چند سے یوم سے مراد اس جگہ پریس ہے۔چنانچہ بائیل میں بھی یہ محاور پایا جاتا ہے سو پورے برس کے بعد بد ر کی لڑائی کا عذاب مکہ والوں پر نازل ہوا جو پہلی لڑائی تھی۔