آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 272
آنحضرت پیر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 272 باب پنجم تھا لیکن ان لوگوں نے اپنے ذاتی گند کو اس طرح اچھالا ہے، اپنے دماغوں کو اس طرح نگا کیا ہے کہ شاید ہی کم کسی دنیا کے مذہب کے علماء کی تحریروں میں ایسی مثال ملتی ہو۔اور وہ لفظ تو میں نے پڑھ کے سنائے نہیں ، وہ میں آپ کو پڑھ کے سناؤں تو شرم کے مارے آپ پسینہ پسینہ ہو جائیں، جس طرح بیان کیا ہے وہ مزے لے لے کر قلم نے۔یہ واقعہ یوں ہوا، پھر یہ دیکھا گیا ، پھر یہ دیکھا گیا۔انا للهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ ، یہ لوگ تو اس دنیا کے اس دور کے انسان کیا از منہ گزشتہ کے بھی انسان نہیں ہیں۔قرآن کریم جب نازل ہوا، تو محاورہ عربوں میں رائج ہوا تھا، یہ زمانہ جاہلیت کی باتیں ہیں۔یہ باتیں جو ہیں زمانہ جاہلیت سے بھی پہلے کی جب ابھی انسان نہیں بنا تھا ، جانوروں کی دنیا کی باتیں ہیں۔خطابات طاہر جلد دوم صفحه ۳۲۹_۳۴۰)