اللہ تعالیٰ — Page 56
۵۶ اللہ تعالیٰ جل شانہ و عزاسمہ اور اسی طرح وہ خدا روح پیدا کرتا ہے جس طرح مجھ میں اُس نے وہ پاک روح پھونک دی جس سے میں زندہ ہو گیا۔ ہم صرف اس بات کے محتاج نہیں کہ وہ رُوح پیدا کر کے ہمارے جسم کو زندہ کرے بلکہ خود ہماری روح بھی ایک اور روح کی محتاج ہے جس سے وہ مُردہ روح زندہ ہو۔ پس ان دونوں روحوں کو خدا ہی پیدا کرتا ہے جس نے اس راز کو نہیں سمجھا وہ خدا کی قدرتوں سے بے خبر اور خدا سے غافل ہے۔ نسیم دعوت ۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۹۱،۳۹۰) خدائے تعالیٰ کی خدائی اور الوہیت اس کی قدرت غیر محدودہ اور اسرار نا معدودہ سے وابستہ ہے جس کو قانون کے طور پر کسی حد کے اندر گھیر لینا انسان کا کام نہیں ہے۔ خدا شناسی کے لئے یہ بڑا بھاری بنیادی مسئلہ ہے کہ خدائے ذوالجلال کی قدرتیں اور حکمتیں بے انتہا ہیں۔ اس مسئلہ کی حقیقت سمجھنے اور اس پر عمیق غور کرنے سے سب الجھاؤ اور پیچ خیالات کا رفع ہو جاتا ہے اور سیدھا راہ حق شناسی اور حق پرستی کا نظر آنے لگتا ہے ہم اس جگہ اس بات سے انکار نہیں کرتے کہ خدائے تعالیٰ ہمیشہ اپنی ازلی ابدی صفات کے موافق کام کرتا ہے اور اگر ہم دوسرے لفظوں میں انہی ازلی ابدی صفات پر چلنے کا نام قانون الہی رکھیں تو بے جا نہیں مگر ہمارا کلام اور بحث اس میں ہے کہ وہ آثار صفات ازلی ابدی یا یوں کہو کہ وہ قانون قدیم الہی محدود یا معدود کیوں مانا جائے ۔ ہاں بے شک یہ تو ہم مانتے ہیں اور مان لینا چاہئے کہ جو کچھ صفتیں جناب الہی کی ذات میں موجود ہیں انہیں صفات غیر محدود کے آثار اپنے اپنے وقتوں میں ظہور میں آتے ہیں نہ کوئی امران کا غیر ۔ اور وہ صفات ہر یک مخلوق ارضی و سماوی پر مؤثر ہو رہی ہیں اور انہی آثار الصفات کا نام سنت اللہ یا قانون قدرت ہے مگر چونکہ خدائے تعالیٰ معہ اپنی صفات کاملہ کے غیر محدود اور غیر متناہی ہے اس لئے ہماری بڑی نادانی ہو گی اگر ہم یہ دعویٰ کریں کہ اس کے آثار الصفات یعنی قوانین قدرت باندازہ ہمارے تجربہ یا فہم یا مشاہدہ کے ہیں اس سے بڑھ کر نہیں۔ آج کل کے