اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 55 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 55

۵۵ اللہ تعالیٰ جل شانہ و عزاسمہ ہماری دعاؤں کی قبولیت اس بات پر موقوف ہے کہ خدا تعالیٰ جب چاہے ذرات اجسام میں یا ارواح میں وہ قوتیں پیدا کر دے جو اُن میں موجود نہ ہوں مثلاً ہم ایک بیمار کے لئے دعا کرتے ہیں اور بظاہر مرنے والے آثار اس میں ہوتے ہیں تب ہماری درخواست ہوتی ہے کہ خدا اس کے ذرات جسم میں ایک ایسی قوت پیدا کر دے جو اس کے وجود کو موت سے بچالے تو ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر وہ دُعا قبول ہوتی ہے اور بسا اوقات اول ہمیں علم د ہم دیا جاتا ہے کہ یہ شخص مرنے کو ہے اور اس کی زندگی کی قوتوں کا خاتمہ ہے لیکن جب دعا بہت ما بہت کی جاتی ہے اور انتہا تک پہنچ جاتی ہے اور شدت دعا اور قلق اور کرب سے ہماری حالت ایک موت کی سی ہو جاتی ہے تب ہمیں خدا سے وحی ہوتی ہے کہ اس شخص میں زندگی کی طاقتیں پھر پیدا کی گئیں تب وہ ایک دفعہ صحت کے آثار ظاہر کرنے لگتا ہے گو یا مردہ سے زندہ ہو گیا۔ ایسا ہی مجھے یاد ہے کہ جب میں نے طاعون کے وقت میں دعا کی کہ اے خدائے قادر ! ہمیں اس بلا سے بچا اور ہمارے جسم میں وہ ایک تریاقی خاصیت پیدا کر دے جس سے ہم طاعون کی زہر سے بچ جائیں تب وہ خاصیت خدا نے ہم میں پیدا کر دی اور فرمایا کہ میں طاعون کی موت سے تمہیں بچاؤں گا اور فرمایا کہ تیرے گھر کی چار دیواری کے لوگ جو تکبر نہیں کرتے یعنی خدا کی اطاعت سے سرکش نہیں اور پرہیز گار ہیں میں اُن سب کو بچاؤں گا اور نیز میں قادیان کو طاعون کے سخت غلبہ اور عام ہلاکت سے محفوظ رکھوں گا یعنی وہ سخت تباہی جو دوسرے دیہات کو فنا کر دے گی اس قدر قادیان میں تباہی نہیں ہوگی ۔ سو ہم نے دیکھا اور خدا تعالیٰ کی ان تمام باتوں کو مشاہدہ کیا۔ پس ہمارا خدا یہی خدا ہے جونئی نئی قو تیں اور گن اور خاصیتیں ذرات عالم میں پیدا کرتا ہے۔ ہم نے اس کامل خدا سے خبر پا کر ٹیکہ کے انسانی حیلہ سے دست کشی کی اور بہت سے لوگ ٹیکہ کرانے والے اس جہاں سے گذر گئے سے اور ہم اب تک خدا تعالیٰ کے فضل سے زندہ موجود ہیں۔ پس اسی طرح خدا تعالیٰ ذرات پیدا کرتا ہے جس طرح اوس نے ہمارے لئے ہمارے جسم میں تریاقی ذرات پیدا کر دیئے اور