الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 174
ضميمه حقيقة الوحي ۱۷۴ الاستفتاء وأوحى إلى في 9 أبريل سنة اور ۹ را پریل ۱۹۰۶ء کو مجھے یہ وحی کی گئی کہ اللہ تعالیٰ ۱۹۰۶ء: نصر من الله وفتح مبين۔ کی طرف سے نصرت اور فتح مبین آیا چاہتی ہے ولا يُرَدّ بـأســه عـن قـوم يعرضون ۔ اور اعراض کرنے والے اس کے عذاب سے بیچ وأوحى إلى في ١٢ / أبريل سنة نہیں سکیں گے۔ اور ۱۲ اپریل ۱۹۰۶ ء کو مجھے یہ وحی ١٩٠٦ء: أراد الله أن يبعثك کی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے کہ تجھے مقام مقاما محمودا ۔ يعنى مقام عزّة وفتح تحمــد فيه۔ وأُوحِيَ في محمود پر مبعوث کرے! پر مبعوث کرے یعنی ایسی فتح کے مقام پر الهندية (ترجمة) : أُرى ما ينسخ جہاں تیری تعریف کی جائے گی ۔ اور اردو میں وحی طاقة الدير يعني أرى آيةً تكسر ہوئی کہ میں کلیسیا کی طاقت کو مٹتے ہوئے دیکھتا قوة دير اليسوعيين۔ وأوحي في ہوں یعنی میں وہ نشان دیکھ رہا ہوں جو عیسائیوں الهندية في جون سنة ١٩٠٦ء کے کلیسیا کی قوت کو توڑ دے گا ۔ جون ۱۹۰۶ء کو (ترجمة): تظهر الآيتان۔ إنّي أُريك ما يُرضيك۔ وأُوحِيَ في ٢٠/ جنوری سنة ١٩٠٦ء: وقالوا لست دو اردو میں وحی ہوئی دونشان ظاہر ہوں گے۔ میں تجھے وہ دکھاؤں گا جو تجھے راضی کر دے گا۔ ١٩٠٦ء مرسلا۔ قل كفى بالله شهيدًا بینی ۲۰ جنوری ۱۹۰۶ ء کو یہ الہام ہوا۔ اور کہیں گے کہ وبينكم، ومن عنده علم الكتاب تو خدا کا فرستادہ نہیں۔ کہہ میری سچائی پر اللہ گواہی وأوحي في ١٠ جولائي سنة دے رہا ہے۔ اور وہ لوگ گواہی دیتے ہیں جو ۱۹۰۶ء: (ترجمة الهندى انظُر ۔۔ کتاب اللہ کا علم رکھتے ہیں۔ اور ہار جولائی ۱۰۶ إني أُمـطـر لك من السماء ، وأنبت من الأرض، وأما أعداؤك برساؤں گا اور زمین سے اگاؤں گا۔ پر جو تیرے فيؤخذون ۔ وأُوحِيَ في مخالف ہیں پکڑے جائیں گئے۔ اور ۲۳ اگست ۱۹۰۶ء ۲۳ اگست سنة ١٩٠٦ء : ترجمة الهندى ستظهر آية في كو اردو میں یہ الہام ہوا۔ ”آج کل کوئی نشان أيام قريبة ليقضى الله بيننا۔ ظاہر ہوگا۔ تا اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے۔ کو یہ الہام ہوا۔ ”دیکھ میں آسمان سے تیرے لئے