الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 173
ضميمه حقيقة الوحي ۱۷۳ الاستفتاء إني صادق صادق وسيشهد الله اني صادق صادق و سيشهد الله لی یعنی میں لي۔ ومنها ما أُوحِيَ إلى في صادق ہوں ، صادق ہوں اور عنقریب خدا تعالیٰ ۲ فرورى سنة ٩٠٣ ا ء وهو هذا: میری شہادت دے گا۔ اور منجملہ ان الہامات کے سنعلیک۔ ساکر مک إكراما ایک وہ ہے جو ۲ رفروری ۱۹۰۳ء کو مجھے ہوا جو یہ ہے۔ ہم تجھے غالب کریں گے ۔ میں تجھے عزت عجبا۔ سمع الدعاء ۔ إنّي مع الأفواج آتیک بغتة۔ دعاؤك دوں گا ایسی عزت جس سے لوگ تعجب میں پڑیں گے۔ تیری دعا سنی گئی۔ میں فوجوں کے ساتھ نا گہانی مستجاب ۔ وأُوحِيَ في ٢٦ / نومبر سنة ١٩٠٣ء : لک الفتح، ولک الغلبة۔ وأُوحِيَ في ١٧ / دسمبر سنة ١٩٠٣ء : ترى نصرا من عند الله۔ إن الله مع الذين اتقوا والذين هم محسنون۔ وأُوحِيَ إلى في طور پر تیرے پاس آؤں گا۔ تیری دعا مقبول ہے۔ اور ۲۶ نومبر ۱۹۰۳ء کو یہ وحی ہوئی لک الفتح و لک الغلبة یعنی تیرے لئے فتح ہے اور تیرے لئے غلبہ مقدر ہے۔ ۷ اردسمبر ۱۹۰۳ء کو یہ وحی ہوئی تو اللہ کی طرف سے نصرت دیکھے گا۔ اور یقیناً اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو متقی اور نیکوکار ہیں ۔“ اور ۱۲ جون ۱۲ جون سنة ١٩٠٤ ء : كَتَبَ الله ۱۹۰۴ء کو مجھے یہ وحی کی گئی ”خدا نے لکھ چھوڑا ہے کہ لأغلبن أنا ورسلي۔ كمثلك در لا میں اور میرے رسول غالب رہیں گے ۔ تیرے جیسا يضاع لا يأتي عليك يوم موتی ضائع نہیں ہوگا۔ تجھ پر گھاٹے کا دن نہیں آئے الخسران۔ وأُوحِيَ إلى الی فی گا۔ اور ۱۷/ دسمبر ۱۹۰۵ء کو مجھے یہ وحی یہ وحی کی گئی ۱۷ دسمبر سنة ۱۹۰۵ء : قال تیرا رب کہتا ہے کہ ایک امر آسمان سے اترے گا ربُّك إنه نازل من السماء ما جس سے تو خوش ہو جائے گا۔ یہ ہماری طرف سے یرضیک، رحمةً منا، وكان أمرًا رحمت ہے اور یہ فیصلہ شدہ بات ہے جو ابتدا سے مقضيا۔ وأُوحِيَ إلى فى ۲۰ مارچ مقدر تھی ۔ اور ۲۰ مارچ ۱۹۰۶ء کو مجھے وحی کی گئی۔ سنة ١٩٠٦ء : المراد حاصل۔ المراد حاصل “ یعنی مراد بر آنے والی ہے۔ 66