الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 166
ضميمه حقيقة الوحى ۱۶۶ الاستفتاء ☆ فعاد الهملاج قطوفاً، وانقلب اور اعلیٰ چال والی سواری بے ڈھنگی والی سواری بے ڈھنگی چال والی سواری الديباج صوفًا، وهلم جرا إلى أنه میں بدل گئی۔ دیباج و حریر ( کھردری) اون میں بدل گئے ۔ اسی طرح دوسرے امور نے بھی ایسا پلٹا أُخــرج مـن بـلـدتـه التـي بنـاهـا کھایا کہ جس بستی کو اس نے بے بہا خزانے خرچ بصرف الخزائن، وحرّم عليه كل کر کے بنایا تھا اسی بستی سے وہ باہر نکال دیا گیا اور ما شيد من المقاصر ببذل جن محلات کو اس نے اپنے خزانے خرچ کر کے ا الدفائن ، بل ما كفى الله على بے حد مضبوط تعمیر کیا تھا ان سے اسے محروم کر دیا گیا ۔ بلکہ اللہ نے اسی پر بس نہیں کی اور اپنی پوری هذا، وأنزل عليه جميع قضائه قضا و قدر اس پر نازل کر دی۔ اور اس کی شان و وقدره، وحط سائر وجوه شأنه شوکت اور قدر و منزلت کی تمام کی تمام وجوہ کو ختم وقدره، وانتقل إلى رجل آخر کر دیا اور اس کے قبضے میں جو کچھ بھی تھا وہ کسی اور كل ما كان في قبضته، وجمعت آدمی کی طرف منتقل ہو گیا۔ اس کی کبر و نخوت کی غياهب البوس رياح نخوته، حتی ہواؤں نے بد حالی کے اتنے اندھیرے جمع کر يئس من ثروته الأولى، وارتضع دیئے کہ وہ اپنی پہلی دولت سے مایوس ہو گیا اور اس نے زمانے کی بانچھ چھاتی کا دودھ پیا اور فقر من الدهر ثدى عقيم، وركب من کے چوپائے کی پیٹھ پر سواری کی ۔اس کے بعد الفقر ظهر بهيم۔ ثم أخذه بعض اس کے بعض وارثوں نے قرض خواہوں کی طرح الورثاء كالغرماء ، ورأى خزيًا كثيرًا اس کا مواخذہ کیا۔اس نے اپنی بیوی ، دوستوں من الزوجة والأحباب والأبناء ، اور بیٹوں کی طرف سے بڑی رسوائی دیکھی۔ الهملاج: الدابة الحسنة السير في لا الهملاج : ایسی سواری جو چلنے میں تیز اور اچھی چال سرعة وسهولة۔ ١٢ رکھتی ہو۔ ۱۲ + القَطوف الدابة الضيّقةُ الخُطى + القَطُوف : ایسی سواری جو چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتی البطيئة السير ۔ ١٢ ہو اور چال میں سست ہو ۔۱۲