الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 155 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 155

ضميمه حقيقة الوحي ۱۵۵ الاستفتاء وهو بشرط الاتباع لا بغير متابعة اور وہ بھی اتباع کی شرط کے ساتھ ہے نہ کہ خیر البریہ خير البرية۔ ووالله ما حصل لی کی متابعت کے بغیر ۔ اور اللہ کی قسم ! مجھے یہ مقام هذا المقام إلا من أنوار اتباع صرف اور صرف مصطفوی شعاعوں کی اتباع کے الأشعة المصطفوية، انوار سے حاصل ہوا ہے۔ وسُمِّيت نبيا من الله علی اور اللہ کی طرف سے مجھے حقیقی طور پر نہیں بلکہ ۶۵ طريق المجاز لا على وجه مجازی طور پر نبی کا نام دیا گیا ہے۔ اس طرح یہاں الحقيقة۔ فلا تهيج ههنا غيرة الله الله اور اس کے رسول کی غیرت جوش میں نہیں آتی، ولا غيــرة رسوله، فإني أُربی کیونکہ میری پرورش نبی کریم کے پروں کے نیچے کی لى الله ۔ تحت جناح النبي، وقدمى هذه جارہی ہے۔ اور میرا یہ قدم نبی ﷺ کے قدموں کے تحت الأقدام النبويّة ۔ ثم ما قلت نیچے ہے۔ پھر یہ بات بھی ہے کہ میں نے اپنی طرف من نفسي شيئًا، بل اتبعت ما سے کچھ نہیں کہا۔ بلکہ میں نے اسی وحی کی پیروی کی أوحى إلى من ربّى۔ وما أخاف ہے جو میرے رب کی طرف سے مجھے کی گئی ہے ۔ ہے۔ اور بعد ذالك تهديد الخليقة، وكل اس کے بعد میں مخلوق کی دھمکیوں سے نہیں ڈرتا۔ اور أحد يُسأل عن عمله يوم القيامة، قیامت کے روز ہر شخص سے اسکے عمل کی پرسش کی ولا يخفى على الله خافية ۔ جائے گی اور اللہ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ۔ وقلت لذالك المفترى۔۔ إن اور میں نے اس مفتری (ڈوئی ) سے کہا کہ كنت لا تباهل بعد هذه الدعوة، اگر تو میری اس دعوت مباہلہ کے بعد بھی مباہلہ ومع ذالك لا تتوب مما تفتری نہیں کرے گا اور اس کے ساتھ یہ بھی کہ جس على الله بادعاء النبوة، فلا نبوت کا تو نے اللہ پر افترا کرتے ہوئے دعوئی تحسب أنك تنجو بهذہ کیا ہے اس سے تو یہ نہیں کرے گا تو یہ مت سمجھنا کہ الحيلة، بل الله يهلكك بعذاب اس حیلہ سے تو بچ جائے گا بلکہ اللہ انتہائی ذلت شديد مع الذلة الشديدة، کے ساتھ شدید عذاب سے تجھے ہلاک کرے گا