الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 142
ضميمه حقيقة الوحي ۱۴۲ الاستفتاء وهو ناصر دينه وهو خير اور وہ (خدا ) اپنے دین کا مددگار ہے اور وہی الناصرين۔ بہترین مددگار ہے۔ وقد خاطبني ربي لنصرة دينه اور میرے رب نے اپنے دین کی نصرت کے لئے بكلمة أجد فيها وعدًا كبيرًا، ایسے کلام سے مجھے مخاطب کیا جس میں میں بہت بڑا وقال : بَشِّرُهم بأيام الله وذَكِّرُهم وعدہ پاتا ہوں اور اس نے فرمایا: یعنی کہ تو انہیں اللہ تذكيرا۔ فنعلم مطمئنین مستیقنین کے ایام کی بشارت دے اور انہیں خوب نصیحت کر۔ أن الله ينصر دينه ويعصمه من پس ہم پورے اطمینان اور یقین کے ساتھ یہ جانتے الأعداء ، ويظهره على الأديان ہیں کہ وہ اللہ اپنے دین کی مدد فرمائے گا اور اسے كلها من السماء ، ولكن لا بالحرب دشمنوں سے بچائے گا۔ اور آسمان سے اسے تمام والجهاد، بل بآيات قاهرة، ويد ادیان پر غلبہ دے گا۔ لیکن وہ غلبہ جنگ اور جہاد سے تدق قحف الأعداء ۔ وکذالک نہیں بلکہ زبردست نشانات کے ذریعہ اور ایسے ہاتھ وجدنا في كتابه، ثم كمثله أوحى سے ہوگا جو دشمنوں کی کھوپڑیاں توڑ دے گا۔ اور ہم إلى ربّي، وهذا ملخص الإيحاء نے اس کی کتاب میں ایسا ہی پایا ہے۔ پھر میرے رب فلن يخلف الله وعده، ويرى نے مجھے اس جیسی وحی کی اور یہ وحی کا خلاصہ ہے۔ الذين ظلموا جزاء هم أتم پس اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرے گا۔ اور ۵۸ الجزاء۔ وكذالك ظهرت الآثار ظالم اپنے ظلم کا پورا پورا بدلہ پائیں گے۔ اور اس في هذا الزمان، وتجلّى ربّنا طرح اس زمانے میں آثار ظاہر ہوئے اور ہمارا لأهل الأرض بتجلى قهری رب اہل زمین کیلئے قہری تجلی کے ساتھ جلوہ گر ہوا۔ فأرى آيات قهره في جميع پس اس نے اپنے قہری نشان تمام ملکوں میں البلدان۔ وكثير من الناس أفناهم دکھائے۔ اور بہت سے لوگوں کو طاعون نے فنا الطاعون، وكثير منهم انتسفتهم کردیا۔ اور ان میں سے بہتوں کو زلزلوں نے الزلازل وتلقاهم المنون جڑوں سے اکھاڑ دیا اور موتوں نے انہیں آلیا۔