الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 141 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 141

ضميمه حقيقة الوحي ۱۴۱ الاستفتاء فوجب علينا شكرهم وإن لم اس لئے ہم پر ان کا شکریہ واجب ہے اور اگر ہم نشكر فإنا مذنبون۔ شکر ادا نہ کریں تو ہم گناہ گار ہوں گے ۔ فخلاصة الكلام۔۔ إنا وجدنا پس خلاصہ کلام یہ کہ ہم نے اس حکومت کو هذه الحكومة من المحسنین محسنوں میں سے پایا۔ اور اللہ کی کتاب ( قرآن ) فأوجب كتاب الله علينا أن نكون نے ہم پر واجب کر دیا ہے کہ ہم اُن کے شکر گزار لها من الشاكرين، فلذالك ہوں ۔اسی وجہ سے ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور نشكرهم ولا نبغى لهم إلا خيرا۔ ان کی خیر چاہتے ہیں اور اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وندعو الله أن يهديهم إلى وه ان کی اسلام کی طرف راہنمائی فرمائے اور اس الإسلام، وينجيهم من عبادة عبد بندے کی بندگی سے انہیں نجات بخشے جو مصائب و هو كمثلهم في المصائب والآلام آلام جھیلنے میں ان جیسا ہی بندہ تھا۔ اور اللہ ويفتح عيونهم لدينه، ويُوجههم اپنے دین کے لئے ان کی آنکھیں کھولے اور انہیں إلى خير الأديان، ويحفظهم في سب سے بہتر دین کی طرف متوجہ کرے اور انہیں الدين والدنيا من الخسران۔ دین و دنیا میں ہر نقصان سے محفوظ رکھے۔ هذا دعاؤنا ، وهل جزاء یہ ہماری دعا ہے اور احسان کا بدلہ احسان ہی ہے اور الإحسان إلا الإحسان؟ ولا يجازی نیکی کے بدلے میں برائی صرف وہی شخص کرتا ہے جس الحسنة بالسيئة إلا الذى آثم قلبه كا دل گنہگار ہو اور وہ شیاطین کی طرح ہو گیا ہو۔ پس وصار كالشياطين، فلا نريد طريق ہم ظالموں کا طریق نہیں چاہتے۔ اور اس رسالے میں القاسطين۔ وليس وجه كلامنا في ہمارا روئے سخن ان علماء نصاری اور پادریوں کی طرف هذه الرسالة إلا إلى علماء نہیں مگر جنہوں نے اسلام کو گالیاں نکالنے اور ہمارے النصارى والقسيسين، الذين سید و مولی خیر الانام ﷺ کی تو ہین اپنا مذہبی فریضہ حسبوا سب الإسلام وتوهين سيدنا خير الأنام فَرُضَ مذهبهم خیال کیا ہوا ہے ۔ پس ہم اللہ کی طرف سے ان فقمنا لدفعهم وذبهم من الله تعالی کو روکنے اور دور ہٹانے کے لئے کھڑے ہوئے ہیں المؤمن : ۵۱