الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 133 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 133

ضميمه حقيقة الوحي ۱۳۳ الاستفتاء وأتبع أهوائكم، وهو القاهر فوق اور تمہاری خواہشات کی پیروی کروں جبکہ اللہ اپنے عباده وإليه ترجعون ۔ بندوں پر غالب ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ وإني أُعطيت آيات وبركات اور مجھے نشانات، برکات اور ہر قسم کی نصرت اور وأنواع النصرة وتأييدات، وإن تائيدات عطا کی گئی ہیں اور کا ذبوں کے لئے یہ الكاذبين لا يفتح لهم هذا الباب، دروازہ کھولا نہیں جاتا خواہ مجاہدہ سے ان کے ۵۴ ولو لم يبق منهم بالمجاهدة إلا اعصاب کے سوا کچھ بھی باقی نہ رہے۔ کیا تم سمجھتے الأعصاب۔ أتظنون أن الله يحب ہو کہ اللہ خائنوں اور گناہ گاروں سے پیار کرتا ہے۔ خوانًا أثيمًا؟ وإني جئتُ لنصر تکم میں اس کی جناب سے تمہاری مدد کیلئے ایسے شیر کی من جنـابـه، كأسد يطلع من غابه طرح آیا ہوں جو اپنی کچھار سے نمودار ہوتا اور اپنی ويصول كاشرا عن أنيابه، فأرونی کچلیاں ظاہر کر کے حملہ کرتا ہے۔ پس تم مجھے پادریوں، رجلا من القسيسين والملحدين ملحدوں اور مشرکوں میں کوئی شخص بھی ایسا دکھاؤ جو والمشركين، من يبارزني في هذا اس میدان کارزار میں میرا مقابلہ کرے اور قہار خدا المضمار، ويناضلني بآيات الله القہار کے نشانات کے ساتھ مجھ سے برسر پیکار ہو۔ بخدا ووالله إن كلّهم صيدى، وسد الله وہ سب میرا شکار ہیں اور اللہ نے ان پر راہ فرار بند عليهم طريق الفرار، لا يؤويهم أجمة کر دی ہے۔ نہ تو انہیں کوئی جنگل پناہ دے گا اور نہ ولا بحر من البحار، ونحن نفرى سمندروں میں سے کوئی سمندر ۔ ہم ان کی طرف الأرض مسارعين إليهم ونبريها تیز رفتاروں کی طرح سرعت سے فاصلے طے کرتے بسرعة كالمنتهبين، وإنا إن شاء آ رہے ہیں اور ہم ان شاء اللہ ان تک فتح مند اور الله نصل إليهم فاتحين فائزين کامیاب و کامران ہو کر پہنچیں گے۔ أوحى إلى ربّي وقال: أستجيب في هذه میرے رب نے میری طرف وحی کی اور فرمایا کہ اس رات کی تمہاری تمام دعائیں میں قبول کروں گا اور ان میں سے ایک دعا اسلام کی قوت و شوکت کے بارہ میں ہے اور یہ 16 مارچ الليلة كل ما دعوت، ومنها قوة الإسلام وشوكته، وكان ١٦ مارچ سنة ١٩٠٧ء۔ منه 1907 ء کی شب تھی۔ منہ