الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 132
ضميمه حقيقة الوحي ۱۳۲ الاستفتاء وإن خزائنه خارجة من الحد اور اس کے خزانے حد و قیاس سے باہر ہیں۔ پس والقياس ۔ فمن زاد سؤالا زاد جو زیادہ مانگے گا زیادہ انعام پائیگا ۔ پس ایمان کی نوالا ۔ فمن حسن الإيمان أن لا ایک خوبصورتی یہ بھی ہے کہ بندہ اللہ کی عطا سے ييأس العبد من عطائه، ولا يحسب مایوس نہ ہو اور اس کے دروازہ کو اس کے پیاروں پر بابه مسدودًا على أحبائه۔ وإنكم بند خیال نہ کرے۔ اور اے لوگو! یقیناً تم اللہ کی أيها الناس تحتاجون إلى نعم الله نعمتوں اور اس کی عنایات کے محتاج ہو۔ پس یہ وآلائه، فمن الشقوة أن تردّوا نعمه بد بختی ہو گی کہ تم اس کی عطا کردہ نعمتوں کو رد کر دو۔ بعد إعطائه۔ وأي جوعان أشقى من اس بھو کے شخص سے بڑھ کر بد بخت اور کون جائع أشرف على الموت، وإذا ہو سکتا ہے جو قریب المرگ ہو اور جب اسے لذیذ عرض عليه طعام لذيذ ورغيف کھانا اور عمدہ روٹی پیش کی جائے وہ اسے رد کر لطيف ردّه وما أخذه وما نظر إليه دئے اور اسے نہ لئے اور اس پر نگاہ تک نہ ڈالے وهـو فـل الـجـوع وطــريـده، ومع جبکہ وہ بھوک کا مارا ہوا اور بے حال ہو لیکن اس کے ذالك لا يريده۔ با وجود وہ اس کی خواہش نہ کرے۔ فاعلموا أيها الإخوان، رحمكم اے بھائیو! رحمان خدا تم پر رحم فرمائے! جان لو الله الرحمن۔۔ إني جئتكم کہ میں تمہارے لئے آسمان سے ایک کھانا لایا ہوں بطعام من السماء ، وقد حقق اور اللہ نے اس صدی کے سر پر تمہاری آرزؤوں کو الله لكم آمالكم على رأس هذه پورا کیا اور تم ان کے پورا ہونے کی دعا کیا کرتے المائة، وكنتم تطلبونها بالدعاء تھے۔ سو اس نے تم پر اپنی نعمتوں کے دروازے ففتح عليكم أبواب الآلاء ، کھول دیئے ۔ کیا تم ان ( نعمتوں ) کو قبول کرو گے؟ فهل أنتم تقبلون ؟ وأعلم أنكم مجھے معلوم ہے کہ تم مجھ سے ہرگز خوش نہیں ہو گے۔ لن ترضوا عنى حتى أتبع جب تک کہ میں تمہارے عقائد کی پیروی نہ عقائدكم، وكيف أترك وحی ربّی کروں۔ اور میں اپنے رب کی وحی کیسے چھوڑ دوں