الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 130
ضميمه حقيقة الوحي ۱۳۰ الاستفتاء ألسنا بخير الأمم في القرآن ؟ فأی کیا ہمیں قرآن میں بہترین امت قرار نہیں دیا شيءٍ جَعَلَنا شر الأمم علی خلاف گیا۔ پھر کس چیز نے فرقان حمید کے خلاف ہمیں الفرقان؟ أيجوز العقل أن نجاهد بدترین امت بنا دیا۔ کیا عقل جائز قرار دیتی ہے کہ حق الجهاد لمعرفة الله ثم لا نوافی ہم تو اللہ کی معرفت کے لئے پوری تگ و دو کریں دروبها، ونموت لنسيم الرحمة ثم لیکن پھر بھی اس کی شاہرا ہوں کو پا نہ سکیں اور ہم لا نرزق هبوبها ؟ أهذا حَدُّ كمال نسیم رحمت کی خاطر مریں لیکن پھر بھی ہم اس کے هذه الأمة، وقد وافت شمس عمر جھونکوں سے محروم رہیں۔ کیا یہی اس امت کے الدنيا غروبها؟ فاعلموا أن هذا کمال کی حد ہے؟ جبکہ دنیا کی عمر کا آفتاب ڈوبنے کو الخيال كما هو باطل عند الفطنة ہے۔ سو جان لو کہ جس طرح یہ خیال کمال ذہانت کی التامة، كذالك هو باطل نظرًا رو سے باطل ہے۔ ویسے ہی صحف مقدسہ پر تحقیقی نظر ڈالنے کے لحاظ سے بھی باطل ہے۔ على الصحف المقدّسة۔ وأي موت هو أكبر من موت کیا حجاب کی موت سے بڑھ کر بھی کوئی الحجاب؟ وأي عمى أشدّ أذًى موت ہے اور اُس اندھے پن سے زیادہ من عدم رؤية وجه الله الوهاب؟ اذیت ناک اور کیا چیز ہے کہ جس میں وھاب ولو كانت هذه الأمة كالأبكم خدا کے چہرے کا دیدار نہ ہو۔ اگر یہ امت والأصم، لمات العشاق من هذا گونگوں اور بہروں جیسی ہوتی تو عشاق اس غم الهم، الذين يذيبون وجودهم سے مر جاتے ۔ جو محبوب کے وصال کیلئے اپنے لوصال المحبوب، وما كانت وجود گھلا دیتے ہیں اور ان کی دنیا میں کوئی اور منيتهم في الدنيا إلا وصول هذا آرزو نہیں ہوتی بجز اس کے کہ انہیں اپنا یہ المطلوب، فمع ذالک کیف مطلوب مل جائے ۔ پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ان کا يتركهم حبّهم فى لظی محبوب خدا ان پیاروں کو اضطرارو کرب کے الاضطرار، وفي نار الانتظار ؟ شعلوں اور انتظار کی آگ میں پڑا رہنے دے۔