الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 129
ضميمه حقيقة الوحي ۱۲۹ الاستفتاء ويقولون قد ختم على المكالمة اور وہ کہتے ہیں کہ خیر الوری ﷺ کے بعد مکالمہ الہی بعد خير الورى۔ فكأن الله فقد فی کے سلسلہ پر مہر لگ گئی ہے۔ گویا اس زمانے میں هذا الزمن صفة الكلام، وبقى الله صفت کلام کو کھو بیٹھا ہے۔ اور صرف سماعت صفة السمع فقط ! ولعله يفقد صفة کی صفت باقی رہ گئی ہے اور شاید یہ صفت سماعت السمع أيضًا بعد هذه الأيام۔ وإذا بھی آئندہ زمانے میں جاتی رہے اور جب صفت تعطلت صفة التكلم وصفة سماع تكلم اور دعائیں سننے کی صفت معطل ہوگئی تو باقی الدعوات، فلا يُرجى عافية صفات کی سلامتی کی بھی امید نہیں رکھی جاسکتی۔ الباقيات، أعنى عند ذالك ارتفع میری مراد یہ ہے کہ اس صورت میں تمام صفات الأمان من جميع الصفات۔ فمن سے امان اٹھ جائے گی۔ پس جس نے اللہ تعالیٰ کی أنكر أبدية أحد من صفات حضرة صفات میں سے کسی ایک صفت کے ابدی ہونے کا العزة فكأنما أنكر جميعها و مال انکار کیا تو گویا اس نے تمام صفات کا انکار کر دیا اور إلى الدهرية۔ فما تقولون فيه يا دہریت کی طرف مائل ہو گیا ۔ پس اے اہل دانش ! أهل الفطنة: هل هو مسلم أو خر تم ایسے شخص کے متعلق کیا کہتے ہو۔ کیا وہ مسلمان من منار الملة؟ ہے یا وہ ملت (اسلامیہ ) کے مینار سے گر گیا ہے؟ أتظنون أن الإسلام مراد من کیا تم خیال کرتے ہو کہ اسلام چند گنے چنے قصوں قصص معدودة، وليست فيه آیات سے عبارت ہے اور اس میں ایسے نشان موجود نہیں جو مشهودة؟ أأعرض عنا ربنا بعد دکھائی دیتے ہوں ۔ کیا ہمارے رب نے ہمارے وفاة سيدنا خير البرية؟ فأى شيء سيد و مولی خیر البریہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد يدل على صدق هذه الملة ؟ أنسى ہم سے منہ موڑ لیا ہے؟ پھر کونسی چیز اس ملت کی صداقت الله وعد الإنعام الذي ذكره فی پر دلالت کرتی ہے۔ کیا اللہ اپنے اس انعام کے وعدے سورة الفاتحة۔۔ أعنى جعل هذہ کو بھول گیا جس کا اس نے سورۃ فاتحہ میں ذکر فرمایا ہے۔ الأمة كأنبياء الأمم السابقة؟ یعنی اس امت کو سابقہ امتوں کے انبیاء کی مانند بنانا۔