الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 122
ضميمه حقيقة الوحي ۱۲۲ الاستفتاء وتعلم أن أفواجًا من اليهود قد اور تم جانتے ہو کہ بہت سے یہودی مر گئے لیکن وہ ماتوا ولم يؤمنوا به، فلا تُحرّف عیسی پر ایمان نہیں لائے ۔ پس تم بالبداہت باطل كلام الله لعقيدة هي باطلة عقيدے کی خاطر اللہ کے کلام میں تحریف نہ کرو۔ بالبداهة۔ وقد قال الله تعالی جب کہ اللہ نے ( واضح طور پر ) یہ فرما دیا ہے کہ الْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ ہم نے ان کے درمیان قیامت کے دن تک إلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ فكيف العداوة عداوت اور بغض ڈال دیا۔ پھر عیسی پر ایمان لانے بعد الإيمان بعيسى؟ ألم يبق فی کے بعد عداوت کیسی ؟ کیا تمہارے سر میں ذرہ بھر رأسكم ذرة من الفطنة؟ أليس فی بھی عقل باقی نہیں رہی۔ کیا اس آیت میں اس هذه الآية رد على من زعم أن شخص کا رد نہیں جو یہ خیال کرتا ہے کہ یہودیوں کے جميع فرق اليهود يؤمنون بعيسى؟ تمام فرقے عیسی پر ایمان لائیں گے۔ پھر کیا وجہ فما لكم تخالفون النص الذي هو ہے کہ تم اس نص کی مخالفت کر رہے ہو جو بالکل ۵۰ أظهر وأجلى ؟ فأي آية بقيت فى ظاہر و باہر ہے۔ پھر تمہارے ہاتھ میں وہ کونسی آیت ٥٠ أيديكم بها تتمسكون ؟ فأعجبني باقی رہ گئی ہے جسے تم مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہو۔ حالكم بأي دليل تخاصمون؟ مجھے تمہاری حالت پر حیرانی ہے کہ کس دلیل کی بناء وإن الله ذكر موت عيسى غير مرة پر تم مخاصمت کر رہے ہو جبکہ اللہ نے قرآن میں في القرآن، فما لكم لا تتذكرون ؟ متعدد بار عیسی کی موت کا ذکر فرمایا ہے پھر تم کیوں ويستحيل التناقض فی کلام الله نصیحت حاصل نہیں کرتے۔ اور اللہ رب العالمین کے رب العالمين۔ ما لكم إنكم كلام میں تناقض محال ہے۔ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم تعاندون المعقول، وتكذبون معقول دلائل سے دشمنی رکھتے ہو اور منقول دلائل کی المنقول، ونعرض عليكم تکذیب کرتے ہو۔ اور ہم تمہارے سامنے اللہ کا کلام كلام الله ثم تمرون معرضين۔ پیش کرتے ہیں لیکن تم منہ موڑ کر گزر جاتے ہو۔ ا المائدة : ۶۵