القصیدۃ فی مدح خاتم النبیین ﷺ — Page 2
۳ يَا شَمْسَ مُلْكِ الْحُسْنِ وَالْإِحْسَانِ نَوَّرْتَ وَجْهَ الْبَرِّ وَالْعُمْرَانِ اے حسن و احسان کے ملک کے آفتاب! تو نے بیابانوں اور آبادیوں کے چہرے کو منور کر دیا ہے۔ لد قَوْمٌ رَأَوْكَ وَأُمَّةٌ قَدْ أُخْبِرَتْ مِنْ ذَلِكَ الْبَدْرِ الَّذِي أَصْبَانِي ایک قوم نے تو تجھے دیکھا ہے اور ایک امت نے خبر سنی ہے اس بدر کی جس نے مجھے (اپنا) عاشق بنا دیا ہے۔ ♡ يَبْكُونَ مِنْ ذِكْرِ الْجَمَالِ صَبَابَةً وَتَأَلَّمًا مِنْ لَوْعَةِ الْهِجْرَانِ وہ تیرے حسن کی یاد میں بوجہ عشق کے (بھی) روتے ہیں اور جدائی کی جلن کے دُکھ اُٹھانے سے بھی۔ 2