القصائد الاحمدیہ — Page 15
۱۵ وَ وَاللَّهِ إِنِّي مِنْ نَخِيلٍ خَمِيلَةٍ وَحِبِّي بِمُسْتَانِى يَرُوحُ وَيَغْتَدِى اور خدا کی قسم میں بکثرت پھل دینے والی کھجور ہوں اور میرا محبوب میرے باغ کو صبح و شام رونق بخشتا ہے۔ وَقَدْ خَصَّنِي رَبِّي وَأَلْقَى رِدَاءَهُ عَلَى فَمَا تَدْرُونَ مَا تَحْتَ بُرْجُدِى اور یقیناً میرے رب نے مجھے ہی خاص کیا ہے اور اپنی چادر سے مجھے ڈھانپ لیا۔ پس تم کیا جانو کہ اس منقش چادر کے نیچے کیا ہے ! وَ قَدْ ذُلِلَتُ نَفْسِي بِتَوْفِيقِ خَالِقِي فَلَيْسَ كَمِثْلِي فَوْقَ مَوْرٍ مُّعَبَّدِ پس میرا نفس میرے خالق کی توفیق سے مطیع وفرمانبردار ہو گیا ہے اور اس پائمال راستے پر مجھ سا کوئی نہیں۔ نَمَا كُلُّ عِلْمٍ صَالِحٍ فِي قَرِيُحَتِى كَأَشْجَارِ مَوْلِي الْأَسِرَّةِ أَغْيَدِ میری فطرت میں ہر نیک علم اس درخت کی طرح پروان چڑھا ہے جس کی شاخیں گھنی بکثرت اور تہہ بہ تہہ ہوں ۔ فَجَدَّدْتُ تَوْحِيدًا عَفَتْ آثَارُهُ وَطَهَّرْتُ أَرْضَ الدِّينِ مِنْ كُلِّ جَلْسَدِ پس میں نے اس توحید کو زندہ کیا ہے جس کے آثار نا پید ہو چکے تھے اور میں نے دین کی سرزمین کو ہر بہت سے پاک کیا ہے۔ وَ قَوْمِي يُعَادِينِي غُرُورًا وَنَخْوَةً مَتى أَدْنُ رُحْمًا يَنَا عَنِّي وَيُبْعِدِ اور میری قوم غرور و تکبر کی بناء پر مجھ سے دشمنی کرتی ہے۔ جب میں رحمت کے جذبہ سے قریب ہوتا ہوں تو وہ مجھ سے کنارہ کش ہو کر دور چلی جاتی ہے يَسُبُّ وَ مَا أَدْرِى عَلَى مَا يَسُبُّنِي أَيُكْفَرُ مَنْ يُعْلَى لِوَاءَ مُحَمَّدِ وہ مجھے گالیاں دیتے ہیں اور میں نہیں جانتا کہ وہ کس بات پر مجھے گالیاں دیتے ہیں۔ کیا ایسے شخص کو کافر کہا جاسکتا ہے جو حضرت محمد ﷺ کے جھنڈے کو بلند کرتا ہے يُزَاحِمُنِي مِنْ كُلِّ بَابٍ فَتَحْتُهَا لِنَصْرِ رَسُولِ اللَّهِ حِبِّي وَ سَيِّدِى میں اپنے آقا و حبیب رسول اللہ ﷺ کی نصرت کے لئے جس دروازے کو بھی کھولتا ہوں وہ میرے مزاحم ہو جاتے ہیں ۔ وَقَدْ أَكْفَرُونِي قَبْلَ كَشْفِ حِجَابِهِمْ وَيَعْلَمُ رَبِّي صِدْقٍ قَوْلِي وَ مَقْصِدِى انہوں نے اپنے پردہ حقیقت کھلنے سے پہلے ہی میری تکفیر کر دی ہے اور میرا رب میرے قول کی سچائی اور میرے مقصد کو خوب جانتا ہے وَ رُبَّ وَلِيِّ اللَّهِ بِرِّ مُقَرَّبٌ يُرَى فِي عُيُونِ الْحَاسِدِينَ كَمُلْحِدِ اور اللہ کے بہت سے ولی ہیں جو نیک اور مقرب ہوتے ہیں لیکن حاسدوں کی نگاہوں میں ملحد اور بے دین شمار ہوتے ہیں۔