القصائد الاحمدیہ — Page 14
۱۴ ۳ أُمِرْتُ مِنَ اللهِ الْكَرِيمِ الْمُمَجَّدِ فَقُمْتُ وَ لَمْ أَكْسَلُ وَ لَمْ أَتَبَلَّدِ خدائے بزرگ و کریم کی طرف سے مجھے مامور کیا گیا ہے پس میں اس پر کمر بستہ ہو گیا۔ نہ میں نے سنتی دکھائی اور نہ کوئی تر ڈو کیا وَهَذَا كِتَابِي قَدْ تَلَالَا وَجْهُهُ تَلَا لُو سِمْطَى لُؤْلُوْ وَ زَبَرْجَدِ اورہ میری کتاب جس کا حسن موتیوں اور زمرد کی مالا جیسی چمک لئے ہے روشن ہو گیا ہے۔ تَرَى نُورَ الْعِرْفَانِ فِيهِ كَأَنَّهُ أَيَاةٌ ذُكَاءٍ أَوْ بَرِيقُ الْعَسْجُدِ تو اس میں نور عرفان اس طرح مشاہدہ کرے گا کہ وہ گویا سورج کی کرن یا خالص سونے کی چمک ہے۔ وَ إِنِّي أَرَى فِيهِ الشَّفَاءَ لِطَالِبِ وَيُشْفَى بِهِ قَلْبُ السَّعِيدِ وَ يَهْتَدِى اور یقیناً میں اس میں طالب حق کے لئے شفا پاتا ہوں جس سے سعید فطرت کے دل کو شفا دی جاتی ہے اور وہ ہدایت پا جاتا ہے۔ وَ أَوْ دَعْتُهُ أَسْرَارَ عِلْمٍ وَحِكْمَةٍ وَرَتَّبَتُهُ مِثْلَ الثَّقِيفِ الْمُسَنَّدِ اور میں نے اس میں علم و حکمت کے اسرار سمو دیئے ہیں اور میں نے اسے ایک ماہر قابل اعتما د ادیب کی طرح ترتیب دیا ہے۔ وَ كَمْ مِنْ لَا لِي فِيهِ مِنْ سِرِّ الْهُدَى فَيَا صَاحٍ فَتِشْهَا وَ لَا تَتَجَلَّـدِ اس میں ہدایت کے اسرار کے کتنے ہی موتی ہیں ۔ پس اے میرے دوست! ان کو تلاش کر اور جلد بازی سے کام نہ لے۔ وَقَدْ بَانَ وَجُهُ الْحَقِّ فِيْهِ وَضَاحَةً كَخَةٍ نَقِيِّ اللَّوْنِ لَمْ يَتَخَدَّدِ اور اس میں حق کا چہرہ خوب ظاہر ہو گیا ہے ایسے خوشرنگ رخسار کی طرح جس پر بیماری یا ضعف کے کوئی آثار نہیں ۔ وَ إِنِّي مِنَ اللَّهِ الْكَرِيمِ مُجَدِّدٌ وَمِنْهُ مُبَارَاتِي وَ سَيْفِي وَ أَجْرَدِى میں کریم خدا کی طرف سے مجدد ہوں اور اسی کی جناب سے مجھے مقابلہ کی طاقت بھی عطا ہوئی اور تلوار اور تیز رفتار گھوڑا بھی