القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 1 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 1

1 1 يَا عَيْنَ فَيُضِ اللَّهِ وَالْعِرْفَانِ يَسْعَى إِلَيْكَ الْخَلْقُ كَالظُّمُـانِ اے اللہ کے فیض و عرفان کے چشمے ! خلقت تیری طرف پیاسے کی طرح دوڑ رہی ہے۔ يَا بَحْرَ فَضْلِ الْمُنْعِمِ الْمَنَّانِ تَهْوِي إِلَيْكَ الزُّمَرُ بِالْكِيْزَانِ اے انعام و احسان کرنے والے خدا کے فضل کے سمندر ! لوگوں کے گروہ کوزے لئے ہوئے تیری طرف لپکے آ رہے ہیں۔ يَا شَمْسَ مُلْكِ الْحُسْنِ وَ الْإِحْسَانِ نَوَّرْتَ وَجْهَ الْبَرِّ وَالْعُمْرَانِ اے حسن واحسان کے ملک کے آفتاب ! تو نے بیابانوں اور آبادیوں کے چہرے کو منور کر دیا ہے۔ قَوْمٌ رَأَوْكَ وَ أُمَّةٌ قَدْ أُخْبِرَتْ مِنْ ذلِكَ الْبَدْرِ الَّذِي أَصْبَانِي ایک قوم نے تو تجھے دیکھا ہے اور ایک امت نے خبر سنی ہے اس بدر کی جس نے مجھے (اپنا) عاشق بنادیا ہے۔ يَبْكُونَ مِنْ ذِكْرِ الْجَمَالِ صَبَابَةً وَتَأَلَّمَا مِنْ لَّوْعَةِ الْهِجْرَانِ وہ تیرے حسن کی یاد میں بوجہ عشق کے (بھی) روتے ہیں اور جدائی کی جلن کے دُکھ اٹھانے سے بھی۔ وَأَرَى الْقُلُوبَ لَدَى الْحَنَاجِرِ كُرْبَةً وَأَرَى الْغُرُوبَ تُسِيلُهَا الْعَيْنَانِ اور میں دیکھتا ہوں کہ دل بیقراری سے گلے تک آگئے ہیں اور میں دیکھتا ہوں آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں۔ يَا مَنْ غَدَا فِي نُورِهِ وَضِيَائِهِ كَالنَّرَيْنِ وَنَوَّرَ الْمَلَوَانِ اے وہ ہستی جو اپنے نور اور روشنی میں مہر و ماہ کی طرح ہو گئی ہے اور رات اور دن منو ر ہو گئے ہیں۔