اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 62 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 62

الهدى و التبصرة لمن يرى ۶۲ اردو ترجمہ فانظروا را ماذا ماذا : ترون طرق اس کی دیواریں ڈھ ڈھ گئیں اور عمارتیں کپکپائی المداوات يا طوائف الأساة؟ گئیں ۔ اب بتاؤ اے طبیبو تمہارے نزدیک أتجدون هؤلاء الأمراء۔ يدفعون علاج کا کیا طریق ہے۔ کیا تمہاری رائے میں تلك البلاء۔ أتتوقعون من هذه یہ امراء اس بلا کو دفع کر سکتے ہیں ۔ اور کیا تم الملوك أنهم يطهرون حديقة امید کرتے ہو کہ یہ بادشاہ ان کانٹوں سے الدين من تلك الشوك۔ أو دين كے باغ کو پاک کرسکیں گے ۔ یا تم خیال تزعمون أن هذه الأمراض تبرأ کرتے ہو کہ یہ بیماریاں اسلامی سلطنتوں اور من الدول الإسلامية وبجهدهم ان كى معلوم کوشش سے اچھی ہو جائیں گی ۔ المعلوم۔ كلا بل هو أمر أعسر نہيں نہيں يہ بات اس سے بھی زیادہ دشوار ہے من أن تتوقعوا الرطب الجني من کہ تم تھوہر سے تازہ کھجوروں کی امید رکھو اور الزقوم۔ وكيف وهم في غشية ان سے کیا توقع کی جائے اور وہ تو بڑے الوجوم۔ وكيف يرفعون رأسهم پتھروں کے نیچے دبے ہوئے ہیں اور وہ کیونکر وهم تحت ألوف من الهموم۔ سر اٹھائیں اور وہ ہزاروں غموں کے نیچے والحق والحق أقول ان هذه آئے ہوئے ہیں ۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ان آفات ليس دفعها فى وسع آفتوں کا دفع کرنا بادشاہوں اور امیروں الملوك والأمراء۔ أيهدى كا مقدور نہیں ۔ کیا کبھی اندھا اندھے کو راہ بتا الأعمى أعمى آخر یا ذوی سکتا ہے ۔ اے دانشمند و علاوہ بریں اگر چہ الدهاء ؟ ثم إن هذه الملوك یه بادشاه مسلمان یا مخلص ہمدردبھی ہوں ۔ لیکن وإن كانوا من المسلمين أو من پھر بھی ان کے نفوس پاک کاملوں کے المخلصين المواسين۔ ولكن نفوس کی مانند نہیں ہیں ۔ اور مقدسوں کی ليست نفوسهم كنفوس طرح انہیں نور اور جذب نہیں دیا الكاملين المطهرين۔ وما أعطى جاتا ۔ اس لئے کہ نور آسمان سے اسی دل لهم نور وجذب کالمقدسين پر اترتا ہے جو فنا کی آگ سے جلایا