اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 61 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 61

الهدى و التبصرة لمن يرى ۶۱ اردو ترجمہ كالمحبوس ۔ وعبدة نار اس لئے کہ بادشاہ خواہشوں کے جیل میں الشهوات كالمجوس ۔ و من بند ہیں اور مجوسیوں کی طرح خواہشوں کی آگ كان رائعا في الأجمة الشيطانية۔ کے پرستار ہیں۔ اور جو شخص شیطانی ہیشوں میں ما له وللرياض الرحمانية؟ فأرى چرتا چکتا ہوا سے رحمانی باغوں سے کیا سروکار۔ الدين في زمنهم كمثل جسم میرے نزدیک اُن کے وقت میں دین کی مثال ثارت به من الداخل حصبة اس جسم کی طرح ہے جس پر اندر سے تو چیچک اور ودماميل وأنواع البشرات پھوڑے اور پھنسیاں نکلے ہوں اور باہر سے وجرحـــه مــن الخارج كثير من چھریوں اور نیزوں اور تلواروں نے اُسے زخمی المدى والقنا والمرهفات کیا ہو۔ اور اس کے سرسبز کھیتوں میں رڈی نکمی وأُجبي زرعه المخصب۔ وأُحرق چیزیں اگتی ہوں ۔ اور اس کے اعلیٰ درجہ کے کھجور عذيقه المرجب۔ وكان في زمان کے درخت جلا دیئے گئے ہوں ۔ اور کبھی وہ ایسا كحديقة ترتع النواظر فی باغ تھا کہ آنکھیں اس کے سرسبز نو نہالوں کو دیکھ نواضرها۔ ويصقل الخواطر دیکھ خوش ہوتیں۔ اور اس کے ابرو باراں کو دیکھ کر بشیم مواطرها۔ وأما اليوم فهو دلوں کو جلا اور تازگی ملتی تھی۔ لیکن وہی آج اُس كشجرة اتخذت الخفافيش درخت کی مانند ہے جس کے سایہ میں چمگادڑوں أو كارها في أظلالها۔ وكعين ما نے گھونسلے بنائے ہیں اور اس چشمہ کی مانند ہے بقيت قطرة من زلالها ۔ و جس کے خوشگوار پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں اشمعـلـت للرحل كل شوكة رہا۔ اور اس دین کی ہر شوکت اور برکت کوچ پر وبركة كانت في هذا الدين۔ وما آمادہ ہو رہی ہے۔ اور نشانوں کی نسبت کتھا بقى إلا قصص من الآيات وقشرة کہانیاں رہ گئی ہیں اور کتاب مبین سے من الكتاب المبين۔ وتراه کدار نرا پوست اور چھلکا رہ گیا ہے۔ اور وہ اس گھر مات صاحبها ۔ وقامت نوادبها ۔ کی مانند ہے جس کا مالک مر گیا ہے اور بین وهدم جدرانها ۔ وزلزل بنيانها۔ کرنے والیاں اس پر نوحے کر رہی ہیں اور ۶۲